خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 186

خطابات شوری جلد اوّل ۱۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء کریں۔ایسی عورت نادار کہلائے گی اور ناداروں کے لئے جو شرط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھی ہے اُس کے رُو سے مقبرہ میں داخل ہو سکے گی یعنی دین کی خدمت کر کے لیکن مالی قربانی کے لحاظ سے اس کی وصیت وصیت نہ ہوگی۔اسی طرح ایک آدمی ہے جو مثلاً دوسو روپیہ ماہوار تنخواہ پاتا ہے، اس کا باپ غریب آدمی تھا، اس وجہ سے اُس کا مکان فرض کر لو پانچ سو روپیہ قیمت کا ہے اب وہ مکان کی وصیت کر دیتا ہے مگر آمدنی میں سے کچھ نہیں دیتا۔بتاؤ یہ اُس کی ایسی قربانی ہے کہ اگلی نسلیں اسکی وجہ سے اس کے لئے دُعا کریں اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب میں دفن کیا جائے؟ دراصل وصیت کے لئے ایسا مال ہونا چاہئے جس کے متعلق خیال ہو کہ آئندہ نسل کے کام آنا ہے۔اسی احساس کی قربانی جنت کے قابل بناتی ہے۔مگر جو عورت دس روپیہ میں سے ایک روپیہ دیتی ہے وہ کو نسے احساسات کی قربانی کرتی ہے۔یا جو دو سو یا چارسو ماہوار کما رہا ہے وہ اپنے معمولی سے مکان کے دسویں حصہ کی وصیت کر کے کونسے احساسات کی قربانی کرتا ہے۔میرے نزدیک اس قسم کی وصیتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کو پورا نہیں کرتیں اور ایسے لوگ مقبرہ میں داخل ہو جائیں گے جو درصل داخل ہو نے کے قابل قربانی نہ رکھتے ہوں گے۔خدا تعالیٰ تو ان کو بھی بخش دے گا کیونکہ یہ اس کا وعدہ ہے مگر ہماری بخشش مشکل ر ہو جائے گی کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کو پورا نہ کیا۔اس کے لئے ضروری ہے جو سوال پیش کیا گیا ہے اُس پر غور کیا جائے کہ وصایا کے لئے کیا شرائط ہوں اور کس حد تک کی رقم قربانی کہلا سکتی ہے؟ ان سب امور پر غور کرنے کے لئے سب کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔آپ لوگوں نے اس روح سے جس کا ذکر میں نے تقریر میں کیا ہے ان امور پر غور کرنا ہے۔سب کمیٹیوں کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ سلسلہ کے وقار اور بوجھوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صحیح 66 مشورہ دیں کہ کس طرح کام چلائے جائیں۔“ سوالات اور جوابات کے بارہ میں حضور کی وضاحت مشاورت ۱۹۲۶ء میں حضور کی افتتاحی تقریر کے بعد سلسلہ کے مرکزی کاموں