خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 138
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۳۸ مشاورت ۱۹۲۵ء لوگ موجود ہوں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپکی مسجد میں ایسے لوگ اکٹر کر بیٹھتے تا کہ لوگ سمجھیں کہ یہ بڑے مقرب ہیں مگر جاننے والے جانتے تھے کہ ابو بکر کا قرب اور تھا۔ہم نے حضرت خلیفہ اول کو دیکھا ہے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں ہمیشہ پیچھے بیٹھے ہوتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب آپ کو کہتے کہ آگے آؤ تو دیکھنے والے جانتے ہیں آپ پسینہ پسینہ ہو جاتے۔مگر منافق طبع لوگوں کو دیکھا ہے آدمیوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے آتے اور سب سے آگے بڑھ کر بیٹھتے۔میں نے ان پیغا میوں کو دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے لاتیں پھیلائی ہوئی یوں رانوں پر ہاتھ مار رہے ہوتے جس طرح کوئی بے تکلف دوست سے گفتگو کرتے وقت مارتا ہو، تا جو کوئی دیکھے اُنہیں بہت بڑا مقرب سمجھے۔یہ لوگ ایسے منافق نہ تھے جیسے مکہ والے مگر ان میں کمزوریاں ضرور تھیں۔دراصل لوگوں کی مختلف ایمانی حالتیں ہوتی ہیں اور ان سے مختلف قسم کا سلوک کیا جاتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بڑے مقرب ہیں۔کسی کا اخلاص، ایثار اور قربانی سے ظاہر ہوتا ہے۔دشمن کی بات پر مت یقین کرو جب یہ حالت ہے تو جسے کوئی اس قسم کی بات معلوم ہو اُس کا فرض ہے کہ بات کرنے والے کا نام بتائے۔ابھی میرے پاس رپورٹ پہنچی ہے کوئی کہہ رہا تھا خلیفہ بڑا بداخلاق ہے اور دلیل یہ دے رہا تھا کہ سلسلے کا فلاں دُشمن کہتا تھا کہ میں اُس سے ملنے کے لئے گیا تو مجھ سے یہ سلوک کیا گیا۔اگر دلیل کی بناء یہ ہو سکتی ہے کہ فلاں دشمن یوں کہتا تھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوسرے سارے بزرگ اور میں سب مجرم ہیں۔اگر ہمارے اعمال پر کھنے کے لئے دشمن کی زبان شاہد ہوسکتی ہے تو کوئی پاک نہیں ہوسکتا۔منافقوں کی علامتیں اگر ذرا بھی عقل و فکر سے کام لیا جائے تو میرے نزدیک منافقوں کا پہچاننا مشکل بات نہیں۔ان کے متعلق یہ باتیں یاد رکھنی چاہئیں: - اول وہ دین میں عملی لحاظ سے کمزور ہوں گے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اور قرآن میں بھی آیا ہے کہ وہ نمازوں میں سُست ہوتے ہیں ملے