خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 139
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۳۹ مشاورت ۱۹۲۵ء دوسری علامت جو قرآن کریم سے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے یہ ہے کہ جھوٹ بولتے ہیں ! تیسری علامت جو قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے وہ یہ ہے کہ ان میں عیب جوئی کی عادت ہوتی ہے۔مومن کی نظر تو اپنے دل پر ہوتی ہے کہ مجھ میں کتنے عیب ہیں مگر منافق دوسروں کے عیب تلاش کرتا رہتا ہے۔دیکھو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس قدر قربانیاں کیں وہ ظاہر ہیں مگر مرتے وقت وہ کہتے تھے یا الہی ! میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا۔میری صرف یہی خواہش ہے کہ میری کمزوریاں معاف کر دیجیو ۱۲ مگر منافق دوسروں کی بُرائیاں بیان کرتے ہیں۔یا یوں کہتے ہیں ہم تو گندے سہی مگر ہمارا کیا ہے، فلاں فلاں آدمی میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں مگر یہ بھی اپنی بریت کا ایک طریق ہے۔چوتھی علامت یہ ہے اور یہ بھی قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے کہ منافق کے معاملات خراب ہوتے ہیں۔اُس کے ذہن میں ایک ہی بات ہوتی ہے اور وہ یہ کہ لینا ہے دینا کسی کو نہیں۔پانچویں علامت یہ ہے کہ منافق کو گالیوں کی عادت ہوتی ہے۔مخش کلامی کرتے رہتے ہیں۔یہ بہت موٹی موٹی باتیں ہیں جنہیں ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔مجھ سے اگر کوئی کہے مولوی ثناء اللہ صاحب میں کوئی خوبی نہیں تو میں کہوں گا یہ جھوٹ ہے۔جس طرح ابو جہل میں بھی کچھ نہ کچھ خوبی تھی ، اسی طرح ان میں بھی ہے۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت میں کوئی خوبی نہ ہو۔مگر ان لوگوں کی مجلسوں میں جب سنو گے عیب جوئی ہی سنو گے۔پھر ایک خاص بات جس سے منافق کا پتہ لگانا نہایت آسان ہے وہ یہ ہے کہ کوئی ان کا ذاتی جھگڑا ہو گا جس پر ان کی بیان کردہ بُرائی کی بناء ہوگی۔اور ہم اُسے کہہ سکتے ہیں کیا اس بُرائی کا تمہیں آج پتہ لگا ہے جب تمہارا کوئی ذاتی جھگڑا پیدا ہو گیا؟ عجیب بات ہے آج اگر کوئی سلسلہ سے علیحدہ ہوتا ہے تب اسے نقائص اور بُرائیوں کا پتہ لگتا ہے۔کسی پر کوئی مقدمہ ہوتا ہے اور اُس میں اُسے سزا دی جاتی ہے تو اُس دن اُسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ یہ خرابی ہے پہلے نہیں پتہ لگتا۔ان باتوں سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جس قدر اعتراض کئے جاتے