خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 124
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۲۴ مشاورت ۱۹۲۵ء وقت کی پابندی نہیں کرتے اس لئے جب کہا جاتا ہے کہ فلاں وقت آنا ہے تو لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ اُس وقت ضرور نہیں آنا۔لیکن جہاں تک میرا خیال ہے اگر ہم دُنیا میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وقت کی پابندی کی جائے کیونکہ وقت معین پر نہ آنا نستی پر دلالت کرتا ہے اور کامیاب ہونے والے لوگوں میں سستی نہیں ہونی چاہئے۔اُمید ہے کہ دوست آئندہ ہر کام میں اس کی احتیاط کریں گے۔ایک ضروری بات مجھے اس امر کی خواہش نہیں مگر ایک ضروری بات ہے اور صوفیاء نے اس کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی وہ الفاظ استعمال کئے ہیں گویا آپ نے اس بات کی تصدیق فرمائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس فقرہ کا اس کثرت سے ذکر فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص آپ کی صحبت میں دو تین دن بھی رہا ہو گا تو اس نے سُنا ہوگا۔اور میں نے تو سینکڑوں اور ہزاروں دفعہ سُنا ہے وہ فقرہ یہ ہے۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی سے دنیا میں کسی جگہ یہ مثال نظر نہ آئے گی کہ کسی جماعت کا ہیڈ (HEAD) پہلے آ جائے اور وزراء اور کام کرنے والے بعد میں آئیں۔کوئی ایک مثال بھی اس قسم کی نہیں مل سکتی۔اگر کبھی ایسا ہو جائے تو نہ معلوم کیا قہر آ جائے مگر ہمارے لوگوں کے وقت کی پابندی نہ کرنے کا بار ہا یہ نتیجہ ہوتا ہے اور یہ بد سُنت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت سے چلی آ رہی ہے۔آپ گھر سے نکل کر پندرہ پندرہ منٹ تک انتظار فرماتے رہتے کہ لوگ آئیں تو چلیں۔اب جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ جماعت میں یہ نیا نقص آ گیا ہے بلکہ یہ ہے کہ جماعت نے احتیاط اور کوشش سے اس بُری عادت کو قائم رکھا ہوا ہے۔مجھے بڑا تعجب ہوا جب میں نے آکر یہ دیکھا کہ قاضی امیرحسین صاحب جنہیں بڑھاپے کی وجہ سے چلنے پھرنے میں تکلیف ہوتی ہے وہ تو بیٹھے ہیں مگر اور بہت سے نوجوان موجود نہ تھے۔کچھ اور باتیں مجھے آج اُن سوالوں اور تقریروں کے متعلق کچھ کہنا ہے جو گل پیش ہوئے اور جو تقریریں کی گئیں۔اس کے علاوہ میں ایک اور تقریر بھی کرنا چاہتا ہوں جو سلسلہ کے آئندہ انتظام کے متعلق ہدایات پر مشتمل ہوگی۔میں چاہتا تھا اور