خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 123

خطابات شوری جلد اوّل ۱۲۳ مشاورت ۱۹۲۵ء دوسرا دن متفرق امور کے بارہ میں مبسوط تقریر مجلس مشاورت کے دوسرے دن ۱۲۔اپریل ۱۹۲۵ء کو پہلے اجلاس میں حضور نے متفرق امور کے بارہ میں ایک مبسوط تقریر فرمائی۔احباب جماعت کو قیمتی نصائح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : - وقت کی عدم پابندی ”ہمارے ملک کی بد عادات اور ہماری سالہا سال کی جسمانی غلامی کا یہ نتیجہ ہے کہ اس وقت جبکہ جلسہ کی کارروائی شروع کرنے کا وقت ہو چکا ہے بہت سے ناظر صاحبان کی کرسیاں خالی پڑی ہیں اور بہت سے نمائندوں کی کرسیاں بھی خالی ہیں۔دنیا کو فتح کرنے والی قومیں جو قو میں کام کرنے والی ہوتی ہیں اور جنھوں نے دُنیا کو فتح کرنا ہوتا ہے، اُن کے اعمال اور عادات دوسری قوموں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے اور وقت کی قدر کرتے ہیں۔مگر ہمارے ہاں عام طور پر یہی طریق ہے کہ جو وقت کسی کام کے لئے مقرر کیا جاتا ہے ہمیشہ یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ وقت نہیں ہے۔ہماری مثال اُس لڑکے کی سی ہے جس کے متعلق کہتے ہیں وہ جانور چرا رہا تھا کہ اسے خیال پیدا ہوا لوگوں کا تجربہ کروں۔وہ میری آواز پر آتے ہیں یا نہیں؟ اس خیال سے اس نے کہنا شروع کیا شیر آ گیا، شیر آ گیا۔کسی نے اس مثال کو نظم میں لکھا ہے اور پہلی جماعت کے کورس میں جو کتاب ہوتی تھی اُس میں درج تھی۔جب اُس کی آواز پر لوگ دوڑتے ہوئے گئے تو دیکھا وہ ہنس رہا ہے اور کوئی شیر نہیں ہے لیکن اُس سے کچھ دن بعد حقیقتا شیر آ گیا۔اس پر اُس نے پھر شور مچانا شروع کیا مگر پھر کوئی نہ آیا اور شیر نے آ کر اُسے پھاڑ ڈالا۔کامیابی کے لئے وقت کی پابندی ضروری ہے چونکہ ہم لوگوں کی عادت میں یہ بات داخل ہو گئی ہے کہ ہم