خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 125
خطابات شوری جلد اوّل ۱۲۵ مشاورت ۱۹۲۵ء اب یہی نیت رکھتا ہوں کہ وسعت کے ساتھ اس تقریر کو بیان کروں لیکن خدا کی قدرت ہے آجکل رمضان ہے اور روزہ کی وجہ سے زیادہ تقریر نہیں کی جاسکتی۔دوسرے نیر صاحب نے رات کو میجک لینٹرن Magic Lantern) کے ذریعہ سفر یورپ اور تبلیغ افریقہ کے حالات دکھائے ہیں گو اس سے بہت فائدہ ہوا ہے مگر سحری کو اُس وقت آنکھ نہ کھلی جس وقت کھلنی چاہئے تھی اور میں دُعا ہی کر رہا تھا کہ اذان ہوگئی اس لئے میں کھانا نہ کھا سکا۔میں آجکل شام کو کھانا نہیں کھایا کرتا بلکہ سحری کو کھاتا ہوں لیکن آج سحری کو بھی نہ کھا سکا۔اس وجہ سے بھی لمبی تقریر کرنا مشکل ہے۔تاہم میں کوشش کروں گا کہ جس قدر ہو سکے بیان کروں کیونکہ احباب دُور دُور سے آئے ہیں۔کل ناظروں نے جو رپورٹیں پڑھیں اُنہیں سُن کر بعض سے نظارتوں کی رپورٹیں خوشی ہوئی اور بعض سے افسوس بھی ہوا۔افسوس اس لئے کہ اُنہوں نے رپورٹ کو مشغلہ کے طور پر پڑھا۔رپورٹ اچھی طرح لکھی ہوئی نہ تھی ، مضامین کو ترتیب نہ دی ہوئی تھی ، پڑھنے میں بھی مؤثر پیرا یہ نہ تھا۔میں نہیں سمجھتا اوروں پر کیا اثر ہوا ہو مگر میرے نزدیک صیغہ دعوت وتبلیغ کی رپورٹ میں تیل میں جو سب سے اہم مگر بے ترتیب رپورٹ تھی وہ ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ کی تھی۔تبلیغ کا صیغہ بہت اہم صیغہ ہے اور اس کا فرض ہے کہ سب سے زیادہ معلومات جماعت کو بہم پہنچائے۔مگر در حقیقت اس صیغہ کی رپورٹ ، رپورٹ کہلانے کی مستحق نہ تھی۔گو جو لوگ اس صیغہ کے کام سے واقف ہیں وہ ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ کی اِس تقریر کے بعض حصوں سے اُن کے کام کا اندازہ لگا سکتے ہیں مگر اُنہوں نے کوشش نہیں کی کہ اپنے صیغہ کا کام لوگوں کو بتا سکیں۔ان کے اندر مادہ ہے کہ کام کو اصولی طور پر ڈھال دیں، وہ کام کو علمی رنگ میں رنگین کر لیتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے جب بھی وہ اس صیغہ کے انچارج ہوئے ہیں اُنھوں نے کام کو ایسے اصول پر چلایا ہے کہ بہتر نتائج پیدا ہونے کی امید ہو سکتی ہے۔مگر اُنہوں نے رپورٹ میں جو کچھ بیان کیا وہ ایسا نہ تھا کہ لوگ اُس سے اُس کام کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں۔مجھے افسوس ہے کہ وہ ابھی تک نہیں آئے۔گو دوسرے ناظر بھی بعد میں آئے ہیں۔