خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 118
خطابات شوری جلد اوّل ۱۱۸ مشاورت ۱۹۲۵ء اس جگہ جمع ہونا کوئی ذاتی حق حاصل کرنے یا ذاتی کام پورا کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ ہم اس لئے اس جگہ جمع ہوئے ہیں تا یہ سوچیں کہ وہ حق جو ہم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کیا گیا ہے، اُسے کس طرح احسن طور پر ادا کر سکتے ہیں۔مجلس مشاورت اور دنیا کی دیگر مجلسوں میں فرق پس ہمارا طریق عمل اور ہمارا غور وفکر جو ہے وہ اُس طریق۔پر اور اُن اصول کے مطابق نہیں ہو گا جن کے مطابق دنیا کی پارلیمنٹیں یا مجانس شوری عمل کرتی ہیں کیونکہ ان کی بڑی غرض یہ ہوتی ہے کہ ہر فرقہ اور ہر جماعت اپنے حقوق کی حفاظت کرے یا اپنے حقوق کا گورنمنٹ سے مطالبہ کرے اس لئے اُن کی مجالس شوری گویا لڑائی کا میدان ہوتی ہیں جہاں مختلف خیالات کی فوجیں جمع ہوتی ہیں اور اُن کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے حقوق حاصل کریں اس وجہ سے ان کی کونسلوں کے ہال میدانِ رزم ہوتے ہیں۔مگر ہمارا نقطہ نگاہ چونکہ اور ہے اس لئے ہما را میدانِ عمل بھی اور ہے۔ہم اِس لئے جمع نہیں ہوئے کہ اپنے حقوق حاصل کریں۔کیونکہ ہمارے حقوق ہماری پیدائش سے بھی پہلے ہمارے لئے مقرر ہو چکے ہیں اور وہ خدا جس کا حکم ہے کہ قبل اس کے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہو اُسے اُس کی مزدوری دے دولے اُس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہمارے حقوق ہمیں نہ دے اور اس بات کا انتظار کرے کہ ہم مانگیں تب دے۔ہم جن کے پاس بسا اوقات مزدور کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا جب سمجھتے ہیں کہ مزدور کو فوراً اس کی مزدوری دے دیں گے حالانکہ ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں کہ ہم نہیں دے سکتے تو خدا تعالیٰ کسی کا حق کیوں نہ دے گا اور جب کہ ہمیں ایسے حالات میں حکم ہے کہ پیشتر اس کے کہ مزدور کا پسینہ سُوکھے اسے اُسکا حق دے دو تو جس کی طرف سے یہ حکم ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ اس سے بہت زیادہ مہربانی اور شفقت کا معاملہ کرتا ہے۔پس ہم یہاں نہ اپنے حقوق کے مطالبہ کے لئے آئے ہیں اور نہ کسی انسان سے ہمیں اپنے حقوق لینے ہیں کہ یہ سمجھیں اس سے دینے میں غلطی ہو جائے گی اس لئے ہم پورے حقوق لینے کی کوشش کریں۔مجلس مشاورت کی غرض ہمارے یہاں جمع ہونے کی غرض یہ ہے کہ یہ سوچیں کہ ہم اپنے حقوق اور فرائض کیونکر ادا کریں۔اس صورت میں