خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 119

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۱۹ مشاورت ۱۹۲۵ء ہمارے اندر کسی قسم کے لڑائی جھگڑے کی صورت نہیں پیدا ہو سکتی۔ہم سب ایک مقصد اور ایک غرض کے لئے جمع ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنے فرائض کس طرح ادا کریں۔جو لوگ اس نیت اور اس ارادہ سے جمع ہوئے ہوں اُن کے اندر لڑنے کی کوئی خواہش نہیں پیدا ہوسکتی بشرطیکہ وہ اپنے فرض کو سمجھیں۔اس وقت میں اپنے دوستوں کو اختصاراً اسی امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سمجھیں۔ان کے جمع ہونے کی غرض یہ ہے کہ وہ بہتر طور پر اپنے فرائض کو کس طرح ادا کر سکتے ہیں اور اس کے متعلق تدابیر سوچنا ہے۔ایسی حالت میں اظہار رائے کے وقت کسی قسم کا غصہ یا جلد بازی نہیں ہونی چاہئے یا کسی شخص کی ذات کو مد نظر رکھ کر کوئی رائے نہ دینی چاہئے۔مومن کا مقام خدا تعالیٰ کا عرش ہوتا ہے۔وہ جسم کے لحاظ سے زمین پر ہوتا ہے لیکن خیالات کے لحاظ سے اُس بلند مقام پر پرواز کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہوتا ہے اس لئے وہ تمام قسم کی رنجشوں سے بالا ہوتا ہے۔اس کے لئے چھوٹے یا بڑے، جاہل یا عالم ، اپنے یا پرائے کا سوال نہیں ہوتا بلکہ وہ سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے۔پس تم لوگ اپنے فکروں، اپنے غوروں، اپنی اظہار آراء میں اپنے مقام مومنانہ کو یاد رکھو اور کوئی بات ایسی نہ کرو جس سے کسی کو خواہ مخواہ رنج پہنچے۔رائے نیک نیتی سے قائم کرو پھر میرے نزدیک یہ بات تو آسان ہے مگر اس سے بڑھ کر مشکل یہ ہے کہ اندھیرے اور تاریکی میں کوئی رائے نہ قائم کی جائے۔میرا مطلب یہ ہے کہ جو رائے ظاہر کرو، نیک نیتی اور خلوص سے ظاہر کرو۔بعض اوقات ایک انسان خود نہیں سمجھتا کہ کسی ذاتی رنجش سے اُس کی رائے مؤثر ہو رہی ہے مگر وہ مؤثر ہوتی ہے اس لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا میری رائے ہمیشہ فلاں کے خلاف تو نہیں ہوتی۔حالانکہ بسا اوقات وہ قلتِ رائے کی تائید میں ہوتی ہے۔ایسی صورت میں یہ سمجھنا چاہئے کہ کسی ذاتی رنجش کا اثر ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہمیشہ فلاں کے خلاف ہوتی ہے حالانکہ کثرت رائے اُس کے حق میں ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ چھپے ہوئے خیالات اُس پر اثر کر کے اس رنگ میں اُس کی رائے کو رنگ دیتے ہیں اور اُسے ایسے رستہ پر چلاتے ہیں جو دشمنی اور عداوت کا رستہ ہوتا ہے۔