خطابات — Page 53
53 ہے۔آج دشمن کی آنکھ پہلے سے بڑھ کر حسد کی نظر سے جماعت کی ترقیات کو دیکھ رہی ہے۔کیونکہ یہ خود اس بات کو حسرت سے دیکھتے ہیں کہ تمام تر مخالفتوں کے باوجود جماعت احمد یہ خلافت کے سایہ تلے ترقی کرتی چلی جارہی ہے۔چونکہ یہ لوگ یہ مخالفین خود اس بات کو حسرت سے دیکھتے ہیں کہ تمام تر مخالفتوں کے باوجود جماعت احمد یہ خلافت کے سایہ تلے ترقی کرتی چلی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کی وارث بنتی چلی جارہی ہے کہ میں مومنین میں خلافت قائم کروں گا، اللہ تعالیٰ جماعت کو تمکنت عطا کرتا چلا جا رہا ہے۔ہر روز اس کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جارہی ہیں۔ان مومنین کے ہر خوف کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالی خلافت کی ڈھال کی وجہ سے اپنے تحفظ میں رکھے ہوئے ہے۔باوجود دشمنوں کی تمام تر کوششوں کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام دنیا کے کونہ کونہ میں اس حبل اللہ کو پکڑنے کی وجہ سے احمدی پہنچا رہا ہے اور بھولی بھنگی انسانیت کو آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے لا رہا ہے تا کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچائیں۔خود یہ مخالفین بھی مانتے ہیں کہ خلافت کے بغیر امت مسلمہ کا اتحاد ناممکن ہے۔نہ اسلام کی ترقی ممکن ہے، نہ یہ اتحاد ممکن ہے۔لیکن آنکھوں پر پٹی پڑے ہونے کی وجہ سے جس کو خدا تعالیٰ نے خاتم الخلفاء بنا کر بھیجا ہے اور اس کے بعد جو خلافت جاری فرمائی ہے اس کے انکاری ہیں۔خلافت کے بارہ میں جو ان کی حسرتیں ہیں اس کی ایک دو مثالیں میں پیش کر دیتا ہوں۔ایک مولا نا ہیں عبدالرحمن صاحب مہتمم جامعہ اشرفیہ کراچی۔وہ کہتے ہیں: