خطابات — Page 54
54 1 وو ” جہاں تک نظام خلافت اسلامیہ علی منہاج النبوۃ کا تعلق ہے اس سے بہتر اور اچھا کوئی نظام نہیں۔کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بے شک اللہ تبارک و تعالی نے خرید لیا ہے مومنین کا جان مال بدلے جنت کے۔لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں میں آپس کے تنازعات عروج پر ہیں۔جہاں تک خلافت کا تعلق ہے تو خلیفہ کس کو مانیں اور اگر مکہ مکرمہ سے خلیفہ کا انتخاب کیا جائے تو سب سے پہلے تنازعہ بریلوی حضرات کریں گے۔اور میں نے نظام خلافت کے بارہ میں ساتھیوں سے بھی مشورہ کیا ہے اور ہیں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں نظام خلافت ممکن نہیں ہے پھر ایک دانشور ہیں ہمایوں گوہر اپنے مضمون ”سفر کا آغاز ہوتا ہے دسمبر 2005ء میں لکھتے ہیں کہ : " آج ہم اپنے آپ کو فرسودہ خیالات، ناقص رسومات اور جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں پاتے ہیں۔معاشرتی اور سماجی برائیاں ہمیں گھیرے ہوئے ہیں۔عدم انصاف عروج پر ہے اور ماحولیاتی آلودگی گزرتے دن کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔اس لئے ہمیں ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی ضرورت ہے جواُمہ کی اصلاح کر سکے۔اس کے لئے بہت زیادہ ہمت و جذبے کی ضرورت ہے جس کے لئے ارادہ کی پختگی اور ایمان کی مضبوطی درکار ہے۔یہ مسلمانوں کے خلافت جیسے ادارے کی وجہ سے ممکن ہے“۔ہے پس یہ ہیں ان کی حسرتیں کہ محسوس بھی کرتے ہیں لیکن قائم نہیں کر سکتے۔خلافت خامسہ کے انتخاب اور بیعت کے نظارےMTA نے تمام دنیا کو دکھائے جن ماہنامہ ضرب حق کراچی۔ماہ اپریل 2004، صفحہ 4 کالم -5-6 بقیہ صفحہ 3 کالم 3 نوائے وقت۔19 دسمبر 2005 صفحہ 14