خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 94
خطابات طاہر جلد دوم 94 افتتاحی خ ب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء ہیں اس ولولے کے ساتھ بچے وہاں بحث میں تحریف میں مشغول تھے کہ آخر تھانیدار ہارگیا، اس نے کہا اچھا پھر میری شرم کی خاطر تم نکل جاؤ، یہاں سے بھاگ جاؤ یہ بھی واقعات ہورہے ہیں۔عورتوں کے جو جذبات ہیں ان کا کچھ تو ذکر وہاں بھی میں کروں گا۔انشاء اللہ اگر وقت ملا ایک خاتون لکھتی ہیں کہ میں تو ان عورتوں سے ملنے کے لئے گئی جن کے خاوند پکڑے گئے تھے، جن کے بھائی پکڑے گئے تھے، جن کے بیٹے پکڑے گئے تھے اور ابھی تک واپس نہیں آئے تھے۔ان گھروں میں ایک عجیب نظارہ اور ایسی کیفیت دیکھنے میں آئی کہ عقل حیران رہ گئی۔ہر عورت کے منہ سے یہ الفاظ سنائی دے رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہماری قربانیاں قبول فرمائے اور ان کے چہرے خوشیوں سے تمتما رہے تھے اور ان کے منہ سے صبر وشکر کے کلمے نکل رہے تھے۔جوں جوں احباب پکڑے جارہے تھے جماعت کا حوصلہ بڑھ رہا تھا اور ہر ایک کی یہ تڑپ تھی کہ میں قربانی دوں۔“ کہتی ہیں مثال کے طور پر ایک بچے کی بات سنئے کہ ایک پانچ چھ سال کا بچہ تھا جس کے ابا قید میں تھے تو میں نے اس سے پوچھا کہ ابو کہاں ہیں؟ کہنے لگا! جیل میں، جیل سول لائنز میں“ اور کہتی ہیں اس طرح وہ خوشی سے تن گیا جیسے کسی محل میں جانے کی خبر دے رہا ہو اور بڑا فخر سے تن کے کہا کہ جیل میں ہیں ، سول لائن جیل میں ہیں۔ماشاء الله کہتی ہیں میں حیرانگی سے اس بچے کو دیکھتی تھی اور میرا سارا وجود اس کے لئے پیار بن گیا۔“ اب تو حال یہ ہے کہ غیر احمدیوں کو بھی سزائیں ملنے لگ گئی ہیں کلمہ لگانے پر، احمدی بھی اچھے دلچسپ لطیفے چھوڑتے رہتے ہیں۔بعض غیر احمدیوں کو کہتے ہیں کہ کیوں جی بس چھوڑ دیا آپ نے کلمہ، ہمارے لئے رہ گیا ہے، جب تک مٹھائی ملتی تھی کلمہ لگاتے تھے جب سزا ملتی ہے کلمہ چھوڑ بیٹھے ، تو بعض غیرت میں آکے کہتے ہیں! ہاں جی لگاؤ۔ایسے آدمی بعض پکڑے جاتے ہیں وہ ایک پکڑا گیا، تھانیدار سے بحث ہورہی ہے اس نے کہا میں نے تو نہیں چھوڑنا۔اس کو مارا پیٹا کہ میں تمہیں قید میں ڈالوں گا۔اس نے کہا! میں خدا کی قسم احمدی نہیں ہوں غیرت میں آکے لگایا ہوا ہے۔احمدیوں نے گواہیاں دیں تب چھوٹا جاکے، منچلے تو کاروں پر بھی لگا رہے ہیں اور رپورٹ یہ ہے کہ جس کی کار پہ