خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 95

خطابات طاہر جلد دوم 95 95 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء لگ جاتا ہے وہ پھر نہیں اتارتا، حیا اور غیرت تو ہے نا بہر حال کلمہ تو بنیاد ہے۔کلمے کی محبت تو کوئی دنیا کی حکومت نہیں چھین سکتی ، کوئی دنیا کا مولوی نہیں نکال سکتا مسلمان کے سینے سے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان میں جو شرافت گونگی تھی اب وہ جاگ رہی ہے، اب حالات میں ایک تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔اصحاب دانش، اصحاب اثر ورسوخ جو پہلے بھی شاید ہمدرد ہوں ان میں سے بعض لیکن جرات نہیں تھی کہ وہ اپنی زبان سے احمدیت کی تائید میں کوئی کلمہ نکالیں۔اب کلمے کی برکت سے وہ جراتیں بیدار ہو رہی ہیں اور عوام الناس میں بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بڑی تیزی سے تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔ایک اقتباس ہے، امیر صاحب ضلع اوکاڑہ کا کہتے ہیں۔ہم نے تو اپنے حساب سے کلمے شائع کئے جتنے احمدی ہیں، کہتے ہیں ! دیکھتے دیکھتے ختم ہو گئے۔ڈیمانڈ آئی ، ہم نے کہا یہ کہاں گئے تم تو پورے ہو گئے ہو۔انہوں نے کہا جی غیر احمدی چھین چھین کے لے جارہے ہیں اب وہ بھی لگا رہے ہیں اور کہتے ہیں پھر شائع کئے پھر تھوڑے ہو گئے ، پھر شائع کئے پھر تھوڑے ہو گئے۔اب تو ہم اسی کام پر لگے ہوئے ہیں یہ Badge شائع کر کر کے غیر احمدیوں کو پہنچا رہے ہیں اللہ کے فضل کے ساتھ ، یہ تحریک بن رہی ہے اور بعض جگہ ظلم ہوتے ہیں تو ظلم کا جواب پھر وہیں سے پیدا بھی ہوتا ہے۔ایک احمدی نوجوان کا قصہ بڑا دلچسپ ملا ہے کہ ایک بس میں سوار ہوا، سوار ہوتے ہی اس نے السلام علیکم کہا، جب ٹکٹ کٹانے لگار بودہ کا نام آیا، تو مولوی بیٹھا ہوا تھا۔اس نے کہا کہ ٹھہر وجی بس روکو، سکھیکی کا یا پنڈی بھٹیاں کا تھا نہ تھا، وہاں جب پہنچے تو اس نے کہا! بس روک دو۔خیر اس نے بس روک دی انہوں نے کہا ابھی ٹھہر و ایک منٹ، پولیس کو بلا کے لایا کہ یہ مجھے تبلیغ کر رہا تھا اور اس کو پکڑ لو۔تھانیدار نے کہا کہ کیا تبلیغ کر رہا تھا، لوگوں نے کہا جھوٹ بولتا ہے مولوی،السلام علیکم کہا تھا۔اس کو بڑا غصہ آیا اس نے کہا! السلام علیکم تمہیں کوئی شرم چاہتے ، اس کو السلام علیکم کے جرم میں میں پکڑلوں یہ تو نہیں ہوسکتا۔خیر انہوں نے بٹھا دیا اور جب بس چل پڑی تو ایک ویران جگہ پر کنڈ کٹر نے پھر بس رو کی اور اس نے کہا اے مولوی اب یہاں میں تجھے اتاروں گا، بے غیرت اسلام کا نام لے کر جھوٹ اور ظلم ، ہمارے ناک کٹوانے والا تمہیں سزاملنی چاہئے ، دھکے دے کے وہاں اتار دیا اور وہ چیختا رہ گیا۔اس نے کہا نہیں اب اگلی بس پکڑنا، تو ان باتوں سے بہت مجھے حوصلہ پیدا ہورہا