خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 93
خطابات طاہر جلد دوم 93 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء کیا تو عجیب سرور کی لہر دوڑ گئی۔یہی خادم لکھتے ہیں کہ: یہاں پر تو عجیب سماں ہے۔بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں (در مشین:۵۰) ایک یہ بھی تفسیر ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شعر کی ، جیلوں میں بہار آ گئی ہے۔کلمہ گو کلمہ کی خاطر قید کئے جارہے ہیں اور دن رات وہاں کلمے کا ورد کرتے ہیں اور درود پڑھتے ہیں۔ان جیلوں کی کوٹھریوں میں تو کبھی گندی گالیوں کے سوا کوئی آواز نہیں گونجی تھی، کلے کا نور وہاں کیسے پہنچ سکتا تھا؟ یہ احمدی ہیں جو اپنے سینوں سے لگا کر وہاں پہنچے ہیں اور خدا کے فضل سے ان اندھیری کوٹھریوں کو جگمگ کر دیا ہے۔کہتے ہیں بہار آ گئی ہے، تہجد کی نمازیں ہورہی ہیں، پنجگانہ نمازیں تو چھوڑیں باجماعت نمازیں ہورہی ہیں اور پھر تلاوت کی آواز میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اشعار پڑھے جاتے ہیں۔عجیب روحانی منظر ہے، کہتے ہیں پیارے آقا اس جرم کی سزا تین سال قید ہے۔سب خدام بھائی کہہ رہے ہیں، میں نہیں ہوں صرف کہ تین سال کی قید تو کیا ؟ ہم تو اس کلمے کے لئے پھانسی کے پھندے کو بھی چوم کر قبول کریں گے، اللہ تعالیٰ تیرا شکر ہے ہمیں احمدیت کے لئے قربانی دینے کے لئے پسند فرمالیا۔یہ ہیں احمدیوں کے جذبات ان کو شکست دے گا کوئی ؟ اور قربانی کی تڑپ جو ہے لوگوں کے دلوں میں ان کا حال سنئیے۔ایک قصہ ہے ”بچوں کا ذوق قربانی اور تھانیدار کی حیا“۔یہ بھی عنوان لگنے تھے آج دنیا میں قصوں پر لیکن ہے یہ واقعہ، کچھ احمدی بچے پکڑے گئے کلمہ لگانے کے جرم میں، بالغ بھی نہیں تھے اور ایک تو جان کے لگا کے گیا کہ مجھے پکڑ لیں گے اس کو پکڑتے نہیں تھے۔تو اس نے کہا میں نے واپس ہی نہیں جانا مجھے قید کر و۔دوسرے کو لوگ نہیں جانے دیتے تھے اس نے کہا جی میں نے تو کھانا دینے جانا ہے اپنی ڈیوٹی لگوائی اور کلمہ لگا کے وہاں جا کے پکڑا گیا اور وہاں جب پہنچے بعض احمدی دوست تو تھانیدار میں اور ان بچوں میں بحث ہو رہی تھی، تھانیدار کہتا تھا کہ دیکھو میں بڑا حیادار ہوں مجھے تمہارے کلمے دیکھ کر حیا آتی ہے، میرا نہیں دل چاہتا کہ میں نوچوں ، تم نوچ لوتو میں تمہیں رکھنا نہیں چاہتا تمہیں نکالنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا تھانیدار کو حیا آ گئی ہے ہمیں نہیں حیا آئے گی، ہم تو جان دیں گے اس کلمے کے لئے تم کیا نوچ رہے ہو، ہمارے دلوں سے بھی نوچ لو گے۔کہتے