خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 87

خطابات طاہر جلد دوم 87 افتتاحی ب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء امام مہدی ہیں خدا کے نیچے ، ان کو گالیاں نہ دو۔تو اس نے کہا کہ تمہارا امام مہدی میری ٹانگ تو ڑ دے گا، انہوں نے کہا ہاں اگر یہی بات ہے تو امام مہدی کی غیرت سے تمہاری ٹانگ ٹوٹ بھی سکتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ گدھے سے گرا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی، ٹانگ بھی گدھے سے گر کے خدا نے تڑوائی اور چونکہ یہ گفتگو عام ہوگئی تھی دیہات میں، وہ سارا گاؤں حیران رہ گیا کہ عجیب معجزہ ہے یہ ، خدا تعالیٰ کی شان دیکھیں۔قبولیت دعا کے تو بڑے کثرت سے واقعات ہیں جو ہر ملک میں ہورہے ہیں۔چند نمونے میں آپ کو بتاتا ہوں صرف ایک سیرالیون کا بڑا دلچسپ واقعہ ہے کہ وہاں کینما میں ایک احمدی دوست جو Chiefdom کے سپیکر ہیں اپنے بھتیجے کی حمایت کر رہے تھے جو وہاں کھڑے ہور ہے تھے اور ان کے مقابل پر جو آدمی تھا اس کو وزیر کی حمایت اور حکومت کی حمایت حاصل تھی اور ان کے بھتیجے کے خلاف حالات اتنے خطرناک تھے کہ خطرہ یہ تھا کہ ان کی Chiefdom بھی جائے گی اور بھتیجا تو ہو نہیں سکتا اور وہ جب نیا آدمی آیا تو اس نے اس علاقے میں جماعت کی شدید مخالفت کرنی ہے۔ان کے مبلغ کا ایک خط آیا جس نے یہ حالات مجھے لکھے، ایک خط اس کا آیا جو کھڑا ہورہا تھا اور اس میں اتنی لجاجت تھی اور دعا پر اتنا یقین تھا اس کو کہ گو یا اس کو یقین تھا کہ ہو نہیں سکتا خلیفہ وقت کی دعا ہو اور میں رہ جاؤں اس نے کہا ٹھیک ہے حالات مخالف ہیں لیکن میری درخواست ہے مجھے اجازت بھی دیں اور دعا بھی کریں۔بعض وقت ہوتے ہیں ، ایسا دل پر لرزہ طاری ہوا اور میں نے اس کو لکھا کہ بالکل فکر نہ کرو تم کھڑے ہو جاؤ خدا کے فضل سے اور مبلغ کہتا ہے کہ میں احتجاجی خط لکھ رہا تھا آپ کو کہ آپ کا جواب آ گیا۔میں نے کہا بس پھر ٹھیک ہے جو ہو گیا ہو گیا، اب دیکھیں گے جو ہوگا اور حیرت انگیز طور پر نہ صرف وہ کامیاب ہوا بلکہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوا اور سارے علاقے میں چونکہ یہ باتیں شروع ہوگئی تھیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی وہاں دھاک بٹھادی۔احمدی جو اپنے طور پر روزانہ اللہ کی رحمت کے نظارے دیکھتے ہیں وہ تو بے شمار ہیں ، ادھر آپ نے کوئی خدمت کی اُدھر خدا کا جواب مل گیا، ادھر آپ نے کوئی نیت نیک باندھی اُدھر خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب مل گیا۔ایک دوست لکھتے ہیں دلچسپ واقعہ ہے کہ میری بیوی کا دوسال سے زیور گم تھا اور ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا تو اس کے دل میں تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش زیور ہوتا تو میں بھی