خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 86

خطابات طاہر جلد دوم 98 86 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء چاہئیں۔ایک خدا کی بجلی ، غیرت کی تجلی کے اظہار بھی بڑے کثرت سے معلوم ہورہے ہیں اور ایسے ایسے خوفناک نتائج نکل رہے ہیں بعض جگہ کہ آپ حیران ہو جائیں سن کے، لرزہ طاری ہو جائے جسم پر کہ بعضوں نے ظلم اور تعدی سے کام لیا ہے، غریب احمدیوں کو دبایا ہے اور پیشتر اس کے کہ وہ آگے بڑھتے خدا نے ان کو بالکل تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ظالم مولوی بعض ایسے جرموں میں پکڑے گئے کہ ایک عام انسان بھی ان جرموں میں پکڑا جائے تو وہ اگر حیا ہو تو خود کشی کر لے اگر خود کشی سے ڈرتا ہے تو وہ وطن چھوڑ کر بھاگ جائے اور ظلم کرنے والوں کو ہی نہیں بلکہ چیلنج دینے والوں کو بھی خدا وقتا فوقتا اس طرح پکڑتا رہا ہے۔ہزار ہا خط جو وصول ہو چکے ہیں جن میں یہ داستانیں بکھری پڑی ہیں ہم ان کو مرتب کر رہے ہیں۔انشاء الله نمونہ میں بتاتا ہوں ایک دوست کہتے ہیں کہ میری بیوی کی بیعت کا جواب آیا تو ڈاکیے نے گاؤں کے مولوی کو وہ جواب پکڑا دیا بجائے بیوی کو دینے کے، اس پر مولوی صاحب نے رقعہ لکھ کر اس کو بھیجا احمدیت سے تو بہ کرو ورنہ ذلیل ہو جاؤ گی اور کر دی جاؤ گی۔کہتے ہیں مجھے اس وقت ایسی غیرت آئی کہ اس کی پشت پر لکھ کر بھیجا کہ اگر ہم غلط ہیں تو بے شک اللہ ہمیں غارت کرے اور اگر سچے ہیں تو خدا تمہاری ساری بددعائیں تمہارے خلاف لگا دے۔جو کچھ بددعا ئیں اس نے دی تھیں وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی قہری تجلی اس طرح ظاہر ہوئی کہ چند دن کے اندر اندر اچانک اس کے بیٹے کی بینائی جاتی رہی اور اس کی بیوی کی انگلی پر ناسور ہو گیا جو اتنی تیزی سے بڑھا کہ وہ ہاتھ ہی کاٹنا پڑا ، سارا بازو کاٹنا پڑا اور فجر کے وقت مولوی صاحب باہر جارہے تھے تو خود بھی گر گئے اور ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔اب اوپر تلے وہ کہتے ہیں کہ چند دن کے اندر اس چیلنج کے بعد یہ واقعات ہوں، تو کہتے ہیں میرا ایمان سما کیسے سکتا ہے میرے سینے میں؟ کہتے ہیں میری تو دنیا بدل گئی ہے یہ نظارہ دیکھ کر۔ایک اور دوست لکھتے ہیں کہ ایک شخص خطبے کی کیسٹ مجھ سے لے گیا چونکہ لوگ بہت شوق سے مانگتے ہیں ہم دے دیتے ہیں ان کو بلا خوف اور اکثر بہت ہی اچھا اظہار کرتے ہیں ، آگے لوگوں کو سناتے ہیں۔کوئی شکایت نہیں کرتے اس کے باپ کو پتا چل گیا اور اس کو بڑا غصہ آیا اور اس نے اس کیسٹ کے جواب میں نہایت گندی گالیاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیں اور اس کو کہا کہ یہ میرا جواب ہے اور خبر دار جو میرے بیٹے کو تم نے آگے سے کیسٹ دی۔انہوں نے کہا کہ دیکھو