خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 43
خطابات طاہر جلد دوم 43 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء انفرادی طور پر یہاں میں نے لوگ چنے ، تلاش کئے کہ ان کو علم کا شوق اور ذوق ہے اور ان سے کام لئے اور میں بہت حیران ہوا کہ اللہ کے فضل کے ساتھ ان لوگوں نے بھی مجھے کسی قسم کی کمی کا احساس پیدا نہیں ہونے دیا۔چند مثالیں میں ان لوگوں کی خدمت کی آپ کے سامنے رکھتا ہوں پھر میں موضوع بدلوں گا۔آج تو بہت زیادہ مواد ہے پتا نہیں اس وقت میں کچھ ختم بھی ہوسکتا ہے کہ نہیں لیکن یہ میں آپ کو چھوڑ چھوڑ کر باتیں بتارہا ہوں۔ایک سال میں ایک مخلص فدائی جماعت جو وقف کی روح کے ساتھ پاگل ہوئی ہوئی ہو اس کے کاموں کو چند گھنٹے میں سمیٹا کیسے جا سکتا ہے، ناممکن ہے لیکن نمو نے بتانے ضروری ہیں، ان یادوں کو زندہ رکھنا ضروری ہے، تاریخ میں محفوظ کرنا ضروری ہے اور آپ جو شوق سے باہر سے آئے ہیں آپ کو علم ہونا چاہئے کہ یہاں کیا ہورہا ہے۔کئی لوگ ہیں جو بیچارے میری فکروں میں گھل رہے تھے کہ پتا نہیں مجھے اکیلے کا کیا حال ہے۔آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ ایک لمحہ بھی خدا نے مجھے اکیلا نہیں رہنے دیا محسوس ہی نہیں ہونے دیا، ایسے دوست تھے جن کو ہم زبردستی رخصت دیا کرتے تھے لنگر خانے میں آئے ہیں وہ دن رات بیٹھے ہوئے ہیں، جانے کا نام ہی نہیں لے رہے۔چنانچہ ان کو زبردستی رخصت پر بھجوایا جاتا تھا تو وہ چلے جاتے تھے اور ان لوگوں میں ایک سیالکوٹ کے نوجوان بھی تھے، جو وہاں سے اپنے طور پر آئے ہوئے تھے اور وہ آ کر پھر لنگر خانے کے ہو کے رہ گئے اور مسلسل انہوں نے بھی یہی خدمت سر انجام دی اور جہاں تک دوسرے شعبوں کا تعلق ہے ان میں بعض نام ہیں، میں سمجھتا ہوں وہ اب یہاں نہیں لئے جاسکتے ویسے تو انشاء اللہ بعد میں شائع ہو جائیں گے۔دوسرے شعبوں سے پہلے اس کے متعلق بتاتا ہوں کہ اس شعبے میں ایک ہمارے ڈاکٹر ولی شاہ صاحب ہیں اور منصور صاحب ہیں اور محمد حسین صاحب ہیں۔اسی طرح منور احمد جو سیالکوٹ والے ہیں اور ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑا کام کیا ہے اور شعبہ سمعی وبصری میں بھی ڈاکٹر میاں عقیل اور ہاں ایک حنیف الرحمن صاحب بھی ہیں ان میں، وہ بھی خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور بھی ہیں بہت سارے، میں اسی لئے نام نہیں لے رہا تھا کہ اگر شروع کر دیئے تو پھر یہ نہیں پتا لگے گا ختم کہاں کرنا ہے، مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جن کے نام لئے گئے ہیں وہ بھی استغفار