خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 44

خطابات طاہر جلد دوم 44 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء ہی کریں گے کہ ہمارا نام کیوں لوگوں کے سامنے آیا اور جن کے نہیں لئے گئے وہ شاید مطمئن ہوں کہ اچھا ہے ہم چھپے رہے۔مگر خدا کی نظر سے تو وہ نہیں چھپے ہوئے ، ہماری نظر سے چھپنا بھی ہے تو بے معنی ہے، ہم تو کس کو کچھ بھی نہیں دے سکتے ، ہاں وہ خداوہ کائنات کا مالک خدا جو سب محسنین پر محبت کی نظر رکھتا ہے، جو کسی ادنی سی خدمت کو بھی ضائع نہیں کرتا۔میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ اس سے نہیں چھپے ہوئے اور وہ بڑے پیار اور محبت کی نگاہیں ان پر ڈالتا ہوگا۔ان سب کارکنان کی کیفیت تو یہ تھی کہ مجھے ان کے حالات دیکھ کر بعض دفعہ یہ شعر یاد آ جاتا تھا کہ تیرے کوچے اس بہانے مجھے دن سے رات کرنا کبھی اس سے بات کرنا کبھی اُس سے بات کرنا ور کو پکڑ کے بیٹھ گئے تھے کبھی کہیں جاتے نہیں تھے کہ جناب آپ کا کام ختم ہو گیا ہے۔اچھا جی! فلاں کام مجھے یاد آ گیا ہے۔باتوں کے بہانے نہیں تھے، یہاں کاموں کے بہانے تھے، بچے بیمار ہوتے تھے تو ان کو پتا نہیں لگتا تھا۔ایک دفعہ ایک نوجوان کو مجھے زبردستی بھجوانا پڑا کہ بچہ شدید بیمار ہے اور نہایت خطر ناک حالت ہے۔اس وقت اس کی بیوی سے مجھے پتا چلا کہ جب سے آپ آئے ہیں ہم نے تو اس کو دیکھا ہی نہیں، رات کو اُس وقت آتا ہے جب ہم سب سو چکے ہوتے ہیں، صبح اُس وقت چلا جاتا ہے جب ابھی کوئی اٹھا نہیں ہوتا۔خاوند کا کچھ پتا نہیں کہاں رہتا ہے، بیماری کی اطلاع دینے کے لئے میرے پاس آئی کہ ہمارے میاں کو اطلاع تو کریں چنانچہ پھر مجھے حکماً ان کو رخصت دینی پڑی۔بعض تو ریٹائر ڈ آدمی ایسے ہیں جو مستقل خدمتیں یہاں دے بیٹھے ہیں، پہلے سے بھی کام کر رہے تھے اور اس دور میں بھی انہوں نے بہت ہی عظیم الشان خدمات کی ہیں۔مثلاً سید امتیاز احمد شاہ صاحب ہیں واقف زندگی رضا کار، کیپٹن محمد حسین صاحب کافی بوڑھے آدمی ہیں لیکن خدمت کا جذبہ اور عشق بہت ہے۔اور نو جوانوں کا یہ حال ہے کہ آپ سوچیں ایک نوجوان کے متعلق میں آپ کو بتاؤں کہ رات بارہ بجے بیٹھے وہ کھانا کھا رہے تھے تو ایک دوسرے دوست نے ان سے پوچھا کہ بڑی دیر ہوگئی ، آپ کھانا کھا رہے ہیں تو اس وقت باتوں باتوں میں ان کو یاد آیا کہ میں نے تو آج دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔یعنی کاموں میں یہ مصروفیت اور انہماک ہے کہ دو پہر کا کھانا بھول گئے تھے