خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 42
خطابات طاہر جلد دوم 42 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء کوشش نہیں کرتے ، کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ ہماری اس وجہ سے عزت کی جائے۔چنانچہ یہ درویش جن کا میں ذکر کر رہا ہوں اور یہ لنگر خانے والے بھی ان کا یہی حال تھا۔بعض دفعہ مجھے تلاش کر کے دیکھنا پڑتا تھا کہ کون کیا کر رہا ہے اور ر پورٹ لینی پڑتی تھی ، اگر میں بیدار مغزی سے خود نہ ان کو تلاش کرتا تو یہ میری نظر سے غائب تھے۔کچھ کام ہوتے ہیں جو سامنے آجاتے ہیں، کچھ لوگ ہیں جو پس منظر میں رہ کے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ان میں سے کسی ایک نے ایک دفعہ اشار تا بھی مجھ پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کی کہ جی ہم تو پس منظر والے ہیں، ہمیں بھی یاد کرو، مجھے ڈھونڈ نا پڑتا تھا۔پس دنیا کی آنکھیں تو ظاہر کو دیکھتی ہیں جب آپ دستار کی عزت کرتے ہیں مگر خدا کی قسم میری نگاہ بڑی محبت اور پیار سے ان پر پڑا کرتی تھی اور پڑتی رہے گی۔میرا دل ان کی محبت میں اچھلتا تھا اور آج بھی اچھل رہا ہے اور ہمیشہ اچھلتا رہے گا، ان کی یاد میرے دل کی محبت کو گر ما دیا کرے گی۔عجیب خدا کے بندے ہیں، ان کی مثالیں نہیں ہیں دنیا میں۔یہ جماعت ہے جس کو وہ مٹانا چاہتے ہیں، کیا کا ئنات کا خلاصہ مٹادیں گے؟ کیا انسانیت کے مقاصد کو نا کام کر دیں گے؟ کیسے ممکن ہے کہ یہ پھل، یہ خدا تعالیٰ کی کائنات کا پھل کوئی مٹانے کی کوشش کرے اور خدا کا ہاتھ اس ہاتھ کو نہ کاٹ دے جو اس کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہو۔ایک عالمی تبلیغی منصوبہ بھی تھا جو ہمیں فورا ساتھ بنانا پڑا اور اس کے بہت سے پہلو ہیں میں ان کا ذکر بعد میں کروں گا۔ہاں انگلستان کے خدمت کرنے والوں میں جہاں تک مستورات کا تعلق ہے، ان کی بعض خدمات کے پہلو میں انشاء اللہ کل مستورات کے خطاب میں پیش کروں گا، وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہماری بات ہی کوئی نہیں ہورہی۔تصنیف و تحقیق کا جہاں تک تعلق ہے یہ ایک الگ کام ساتھ جاری رہا۔وہاں تو ہمارا ایک پورا شعبہ ہے اور بیسیوں علماء اللہ کے فضل کے ساتھ میسر ہیں ، جن پر جب چاہو جو بوجھ ڈالو، جو حوالے چاہئیں نکلوا ؤ، جو تحقیق کروانی ہے کرواؤ لیکن یہاں تو بہت تھوڑا عملہ تھا یعنی ایک ہی مبلغ ہیں جن سے میں زیادہ تر کام لیتارہا ہوں باقی سارے مصروف تھے۔انگلستان کی مقامی ذمہ داریاں ساری اس کے ساتھ پہلو بہ پہلو چلتی رہی ہیں، اُن کا ان مرکزی انتظامات سے کوئی تعلق نہیں۔چنانچہ