خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 400

خطابات طاہر جلد دوم 400 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء ”میرے نزدیک اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص بمنزلہ تو حید کے ہوتا ہے جو کہ ایسے زمانے میں آوے جبکہ توحید کی حقارت اور بے عزتی ہوتی ہو۔“ اب غور سے سنیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو مفہوم سمجھا ہے یہی مفہوم ہم پر عائد ہو گا ، اطلاق پائے گا اور اس مفہوم کو سمجھ کر اور اپنی ذات میں زندہ کر کے ہم دنیا کو تو حید کی طرف بلانے کے اہل بنیں گے۔فرمایا: و شخص بمنزلہ توحید کے ہوتا ہے جو کہ ایسے زمانہ میں آوے جبکہ توحید کی حقارت اور بے عزتی ہوتی ہو اور شرک کی عظمت اور قدر کی جاتی ہو۔اس شخص مامور شدہ کو تو حید کی پیاس ایسی لگائی جاتی ہے کہ وہ تمام اپنے اغراض اور مقاصد کو ایک طرف رکھ کر تو حید کے قائم کرنے میں خود ایک مجسم تو حید ہو جاتا ہے اور وہ عزت کے مقام کی خاطر تو حید کے مرتبہ پر نہیں آتا وہ جانتے ہوئے کہ توحید ذلت کا نشانہ بنائی جارہی ہے تب تو حید کا نمائندہ بنتا ہے۔“ پس یہ الزام کہ ایسا شخص گویا اپنی بڑائی کی خاطر ایسے دعوے کر رہا ہے اسی بات کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جھٹلا دیا اور بالکل اس الزام کی حقیقت کو پارہ پارہ کر دیا۔فرماتے ہیں یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ تو حید ذلت کا نشان بن جاتی ہے جبکہ موحد ہونا عزت کا مقام نہیں رہتا جبکہ شرک کو عزت دی جاتی ہے۔اب آپ دیکھ لیں جتنی بھی مشرک قو میں ہیں اور شاید ہی کوئی ایسی قوم ہو جو مشرک نہ ہو وہاں توحید ایک اجنبی سی ، ایک ایسی حقیقت بن گئی ہے جسے دھتکار دیا جاتا ہے اور موحد بندے کی کوئی قدر اور قیمت نہیں رہتی ،عزت ہے تو مشرک کی ہے۔مشرک جھوٹے خداؤں کو جھوٹی عزتیں دیتا، ان کے سامنے سر جھکا تا اور اپنی مرادیں ان سے مانگتا ہے جو کچھ سمجھتا ہے ان کو ہی سمجھتا ہے۔پس ہر مشرک کی جہاں عزت کی جارہی ہو وہاں ایک شخص کا بمنزلہ تو حید ہونا ایک بہت ہی عظیم مقام ذلت ہے اور اس ذلت میں ہی اس کی تمام عزت کی روح رکھ دی گئی ہے یعنی مقام ذلت ہونے کے باوجود یہ ایک عزت کی روح رکھتا ہے اور خدا کی نظر جب اس مقام پر پڑتی ہے تو فرماتا ہے تو مجھے ایسا ہے جیسا میری توحید اور خدا اپنی تو حید کو خود ایک ایسی غیرت کی شان کے ساتھ دنیا میں پھر