خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 401

خطابات طاہر جلد دوم 401 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء ظاہر کرتا ہے کہ جو بمنزلہ توحید ہو چکا ہو اس کی بے عزتی گویا خدا کی بے عزتی ہو جاتی ہے اور تب دنیا میں ایک نیا دور توحید کے غلبے کا شروع ہوتا ہے مگر ہوتا انسانوں کے ساتھ ہے۔پس تو حید کہیں فضاؤں میں نہیں اترا کرتی ، تو حید انسانوں میں اترتی ہے اور ایک انسان توحید کا مجسمہ بنتا ہے۔وہ توحید کی خاطر جو ذلتیں برداشت کرتا ہے وہی ذلتیں ہیں جو آئندہ اس کی عزت کی ضمانت دیتی ہیں مگر وہ عزت اس کی نہیں رہتی کیونکہ وہ اپنے نفس کو مٹا کر پھر توحید کا مظہر بنتا ہے۔یہ مضمون ہے جس کی مزید تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالوں سے آپ کے سامنے رکھوں گا۔فرماتے ہیں: اس کے اٹھنے بیٹھنے اور حرکت اور سکون اور ہر ایک قول و فعل میں توحید کی لوا سے لگی ہوئی ہوتی ہے۔دنیا میں لوگوں نے اپنے اپنے مقاصد کو بت بنارکھا ہے مگر جب تک خدا کسی کو یہ سوز و گداز توحید کے واسطے نہ لگائے تب تک نہیں لگ سکتا۔“ یعنی یہ جوسوز و گداز حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ مجھے لگ گیا ہے یہ تو حید ہی کا کرشمہ ہے اور آپ کے موحد ہونے کا ثبوت ہے کہ کہتے ہی خیال اس طرف جاتا ہے اسے کوئی میرے نفس کی بڑائی کے طور پر نہ سمجھ لے۔فرماتے ہیں تب تک نہیں لگ سکتا جب تک خدا یہ سوز و گداز عطا نہ کرے۔یہ پہلا مقام بھی خدا کے فیض اور اس کے فضل کے بغیر نصیب نہیں ہوسکتا۔” جیسے لوگ اولا د اور اپنی دوسری اغراض کے لئے بے قرار ہوتے ہیں حتی کہ بعض خود کشیاں کر لیتے ہیں اسی طرح وہ تو حید کے لئے بے قرار ہوتا ہے کہ خدا کی خواہشات، اس کی توحید اور عظمت اور جلال غالب آویں۔اس وقت کہا جاتا ہے کہ اَنْتَ مِنْئُ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَتَفْرِيدِی ( کہ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا میری توحید اور تفرید )‘ ( تذکرہ صفحہ ۵۳) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو آگے بڑھا کر پھر فرماتے ہیں۔پس چونکہ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے خدا کا شناخت کرنا نبی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہے۔“ اب یہ دوسرا پہلو ہے جسے آپ کو یا درکھنا ہو گا خدا کی شناخت کرنا نبی کی شناخت کرنے سے