خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 398 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 398

خطابات طاہر جلد دوم 398 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء ہم آخری مقام تک پہنچیں۔تو ہمارا ساتھ دے تو یہ زندگی بے معنی اور بے حقیقت ہو جاتی، یہ زندگی اپنا مطلب کھو دیتی لیکن سفر ضروری ہے اور ہر احمدی کے لئے یہ سفر ضروری ہے۔اب جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے اس میں اتنے بت رستے میں ملیں گے کہ آپ کے ہاتھ توڑتے توڑتے شل بھی ہو جائیں تو پھر اور بت دکھائی دیں گے۔بسا اوقات ایک انسان سمجھتا ہے کہ میں نے بڑی منازل طے کر لی ہیں اور اچانک ایک اور بت سراٹھا لیتا ہے اور یہ جو اقرار لاعلمی ہے، یہ اقرار لا علمی بھی علم کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ علم ذاتی مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے۔اس کا تعلق اَشْهَدُ سے ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا۔پس ہر بت جو آپ تو ڑیں گے تب آپ گواہی دے سکتے ہیں کہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی خدا نہیں ہے اور اس سفر میں ہمیں بہت سے تجارب حاصل ہوں گے اور اس سفر میں ہمارا سہارا خدا تعالیٰ بنے گاور نہ اس کے سہارے کے بغیر یہ سفر مکن ہی نہیں ہے۔انسان کا نفس اتنا سرکش ہے، اتنا دھو کے باز ہے کہ بار بار اپنی برائیوں کی تائید میں وہ خوبصورت جواز پیدا کرتا چلا جاتا ہے، گھڑتا چلا جاتا ہے۔ہر انسان سے جب پوچھا جائے تم نے یہ حرکت کیوں کی ؟ تو بلا استثناء بلاتر قد پہلا بیان جو منہ سے جاری ہوتا ہے وہ اپنے دفاع میں ہوتا ہے اور جب آپ وہ بیان دے چکیں ، پھر کبھی ٹھنڈے دل سے بیٹھ کر غور تو کریں اس میں کتنا سچ تھا اور کتنا جھوٹ تھا۔انسان نے بہر حال اپنا دفاع کرنا ہے لیکن اگر وہ غور کرے تو صلاحیت موجود ہے کہ وہ جان لے کہ میں کس حد تک جھوٹا ہوں۔بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيرَهُ ) (القمة : ۱۵-۱۶) اتنی عظیم آیت ہے اتنی حیرت انگیز ، میں تو ہزاروں مرتبہ بھی اس کو پڑھتا ہوں تو اس کے حسن سے میں ہمیشہ اس طرح متاثر ہوتا ہوں جیسے پہلی بار دیکھی ہو اور اپنے ہر تجربے پر جب اس کو لگا تا ہوں تو ایک نئی شان کے ساتھ ابھرتی ہے۔اس کا حسن کبھی پرانا نہیں ہوتا مگر اگر اپنے ذاتی تجربے پر اس کو اطلاق کر کے دیکھیں، اپنی چوریاں پکڑنا تو سیکھیں، پتا تو کریں کہ آپ ہیں کتنے چور، ہر بات میں بہانہ ہر بات میں عذر اور ہر عذر حقیقت پر پردہ ڈالنے والا اور ہر وہ پردہ جو آپ اٹھاتے ہیں وہ بھی جھوٹ، بسا اوقات اپنے ایسے حسن سے پردہ اٹھاتے ہیں جو موجود ہی نہیں ہوتا۔پس یہ وہ شرک کی دنیا ہے جس میں ہم بس رہے ہیں اور موحدین بھی اس دنیا کے ظلم اور