خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 397
خطابات طاہر جلد دوم 397 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء تمام اس میں مخاطب ہیں۔پس اے ابنائے فارس ! میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ تو حید کو پکڑ لو اور مضبوطی سے پکڑ لو اور تو حید کو اپنے نفس میں جاری کرو اور موحد بندے بنو اور خدا کی توحید کا مظہر بن کر اٹھو۔پھر لازم ہے کہ دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو تب خدا کی توحید آسمان پر نہیں رہے گی بلکہ زمین پر اتر آئے گی اور زمین و آسمان کا خدا ایک ہو جائے گا۔تب تمام بنی نوع انسان ایک ہاتھ پر اکٹھے ہوں گے ، تب مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب کا فرق مٹ جائے گا۔جب تک یہ فرق نہیں مٹتے شرک جاری رہے گا اور بنی نوع انسان ہمیشہ ایک تباہی سے ایک دوسری تباہی کے دہانے کی طرف ہمیشہ رواں دواں رہیں گے یہاں تک کہ وہ آخری دہا نہ آئے گا جو ہمیشہ کے لئے ان کو ختم کر دے گا۔وہ دہانہ تو آ بھی چکا ہے مادی طور پر وہ دہانہ جس میں داخل ہو کر پھر کبھی باہر نکلنے کی توفیق نصیب نہیں ہوسکتی ، وہ جو کھا کر ہمیشہ عدم بنادیا کرتا ہے وہ دہانہ مادی طور پر تو شاید ابھی نہیں آیا مگر روحانی طور پر آچکا ہے۔کتنی کثرت سے بنی نوع انسان ہیں جو شرک میں مبتلاء ہو کر اس اثر دھا کے منہ میں جاچکے، اس کے منہ کا لقمہ بن گئے۔پس ہم نے بہت بڑے کام کرنے ہیں، بہت اہم کام کرنے ہیں لیکن یہ کام تقویٰ سے سرانجام ہوں گے۔یہ کام عرفان کے ساتھ عاجزی اختیار کرنے سے سرانجام پائیں گے لیکن عاجزی وہ جو حقیقی ہو اور حقیقی عاجزی کی طرف سفر بہت لمبا سفر ہے۔یہ بات میں بارہا آپ کو پہلے بھی کئی طریق سے سمجھانے کی کوشش کر چکا ہوں کہ محض یہ کہ دینا کہ ہم اپنی حقیقت کو پالیں، جو حقیقت ایک خلا ہے اگر خدا نہ ہو تو وہ کوئی بھی حقیقت نہیں۔خدا کے سوا جو عدم ہے وہ ہر ذات میں موجود ہے مگر ہم اس کا اقرار نہیں کرتے۔یہ توحید کا ، لا الہ کا اقرار ہے جس سے توحید کی طرف سفر شروع ہوگا مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے۔آپ اس سفر کو اختیار کریں تو تمام عمر آپ کا سفر جاری رہے گا جو تو حید کی جانب ہوگا اورشاذ ہی ایسا ہوگا ، آپ میں سے کچھ ہی خوش نصیب ایسے ہوں گے جو اپنے آخری حقیقی خلا تک پہنچ سکیں مگر اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ جو قدم بھی اس راہ میں اس کی طرف اٹھتا ہے ہر اس قدم کے نتیجے میں وہ جزاء عطا کرتا ہے اور اپنا نور لے کر آتا ہے اور ہر قدم جو اندھیروں سے روشنی کی طرف بڑھتا ہے اللہ اسے نوازتا، اسے قبول فرماتا ہے اور ساتھ ساتھ چلتا ہے۔پس اگر یہ سہارا نہ ہوتا کہ خدا اندھیروں میں بھی ہمارے ساتھ ہے اور یہ انتظار نہیں کرتا کہ