خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 326
خطابات طاہر جلد دوم 326 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء آپ کے سامنے پیش کی اس میں اسلام کے نام پر جبر ظلم اور زبردستی اور کسی گستاخی کی خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو، انسانی سزا کا کوئی تصور پیش نہیں کیا گیا لیکن ان مفتیان نے جن کا میں ذکر کر رہا ہوں اور آج بھی جو آج کے مفتیوں کی لگا میں تھامے ہوئے ہیں انہوں نے یہ کھلم کھلے فتوے دیئے کہ کفر کی سز اقتل ہے، اس کے سوا اور کوئی سزا نہیں اور بار بار اس بات کو ہرایا اور جہاں جہاں گستاخی رسول کے حوالے سے ان لوگوں نے قتل کے فتوے دیئے ہیں وہاں یہ استنباط قائم کیا ہے کہ چونکہ گستاخی رسول کرنے والا کافر ہو جاتا ہے اور کفر کی سزا قتل کے سوا اور کچھ نہیں ، اس لئے لازماً ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کیا کوئی علاقائی مذہب ہے یا جغرافیائی یا قومیائی مذہب ہے یا بین الاقوامی اور کل عالم کا مذہب ہے ؟ اگر کل عالم کا مذہب ہے تو اس کا فتویٰ یکساں ہر ملک میں برابر صادق آنا چاہئے اور برابر چلنا چاہئے۔وہ مسلمان جو غیر قوموں میں دوسری دنیا میں بستے ہیں ان کا کوئی حق نہیں کہ اسلام کی ایک تعلیم کو سچا سمجھتے ہوئے اپنی جان بچانے کی خاطر اس تعلیم سے وہاں روگردانی کریں جہاں ان کو طاقت نہیں ہے کہ اُس تعلیم پر عمل کر سکیں۔پس یہ محض ایک دھوکہ ہے ایک نفس کا دھوکہ ہے اور دنیا کو دھو کہ میں ڈالنے والی بات ہے۔مثلاً یہ جو کہا جاتا ہے کہ کفر کا نتیجہ لاز ماقتل ہے، تو اس صورت میں آج بھی دنیا میں یہودی اور عیسائی اور ہند و ہر جگہ بس رہے ہیں ، جہاں مسلمان موجود ہیں۔غیر قوموں میں اگر ان کو اختیار نہیں تو اپنے دائرہ حکومت میں تو اختیار ہے وہاں ان کو قتل کر کے دکھائیں اگر ان میں طاقت ہے، اگر ان میں سچی غیرت ہے۔یہ کہتے ہیں کہ اور کوئی سزا تک رسالت کے نام پر پہلے تجویز نہیں ہوئی تھی ، یہ اس نئے دور کا کرشمہ ہے۔بعض علماء لکھتے ہیں کہ یہ تعلیم خاص حضرت محمد مصطفی ﷺ کی عصمت کی حفاظت کے لئے جاری کی گئی ہے اور کوئی دوسرا نبی اس میں شریک نہیں، حالانکہ قرآن کریم اس مضمون کو بالکل جھٹلا رہا ہے۔بار بار نمونے ہتک اور گستاخی کے پیش کرتا ہے، سب نبیوں کے حوالے سے پیش کرتا ہے اور اس کے مقابل پر آنحضرت ﷺ کے ساتھ یہی سلوک دکھلاتا ہے اور تعلیم یہ دیتا ہے کہ پس صبر کر ، صبر کر، صبر کر اور ان لوگوں سے اعراض کر اللہ ان سے نپٹنے والا ہے۔پس ان سب کے دعاوی جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ گستاخی رسول کی سزا قر آن کریم نے اور صرف قرآن کریم نے دوسرے مذاہب کے برعکس یہ تجویز فرمائی ہے کہ ایسے شخص کو مہلت بھی نہ دی