خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 325

خطابات طاہر جلد دوم 325 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء سنائی دے رہی تھی ، اس تقریر کے دوران ( یعنی افتتاحی تقریر نہیں جمعہ کا خطاب ) اس کے دوران ایک غیر مسلم آسٹریلین کا فون آیا۔اس نے سعید جسوال صاحب سے کہا کہ میں حیرت زدہ ہوں کہ اسلام اتنا خوبصورت مذہب ہے۔آج جو اسلام میرے سامنے ہے میں ایک لحظہ کے لئے بھی اس پروگرام کو چھوڑ نہیں سکتا۔مجھے بتائیں کہ یہ کون ہیں جو اسلام کو اس خوبصورتی سے دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں؟ پس ایک وہ چہرہ ہے اسلام کا جو ہم اپنی قربانیوں سے از سر نو دنیا کے سامنے نئے رنگ بھر کر پیش کر رہے ہیں اور ایک وہ چہرہ ہے جو اسلام کو ظالم اور سفاک اور تنگ نظر مذہب کے طور پر دنیا کے سامنے دکھا رہا ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ فتح حقیقی اسلام ہی کی ہوگی ، ان فرضی چہروں نے بہر حال مٹنا ہے اور مٹ جانا ہے اور تاریخ کے انبار تلے دب جانا ان کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔میں یہ مضمون بیان کر رہا تھا کہ بہت سے ظالموں نے قرآن کریم کی حقیقی تعلیم سے منہ پھیر کر ازمنہ وسطی کے بعض فقہاء اور بعض حدیثیں جمع کرنے والوں کی ایسی احادیث پر بنا کرتے ہوئے جن کی کوئی اصل نہیں ہے جو قرآن کریم کے مضمون سے واضح طور پر ٹکرانے والی ہیں ایسے مفتی پیدا ہوئے ، جن مفتیوں نے اپنی عقل اور فہم کے مطابق بظاہر اسلام کی خدمت کی مگر ایسا بھیانک تصور اسلام کا پیش کیا کہ اس تصور کی رو سے اسلام دنیا پر فتح یاب نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ تصور انسانی فطرت کے خلاف ہے۔اور قرآن کا دعوی ہے کہ قرآنی تعلیم فطرت کے مطابق ہے، فطرت پر انسان کو پیدا کیا گیا اور فطرت ہی کی تعلیم ہے جو اسلام نے دی۔پس ہر وہ تعلیم جس سے فطرت مناسبت نہیں رکھتی ، ہر وہ تعلیم جو انسان کی سچی فطرت کے معاند اور مخالف ہے وہ کسی صورت بھی اسلام کی تعلیم نہیں کہلا سکتی۔یہ ایک ایسا دائی ، بنیادی قطعی اصول ہے جس میں آپ کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔بہر حال ان لوگوں نے قرآن کریم اور سنت سے بعض غلط معانی اخذ کر کے، شروع میں ممکن ہے کہ اس زمانے کی سادگی کے نتیجے میں ایسا ہوا ہو مگر آج کل کے زمانے میں ان معانی کو اخذ کرنے کا ان لوگوں کے پاس کوئی جواز نہ تھا۔اس کے باوجود بضد ہیں کہ اسلام یہی ہے جو ہم سمجھ رہے ہیں اور جس پر ہم عمل پیرا ہیں۔اس صورت میں اسلام کی جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ نہ صرف یہ کہ بھیا تک ہے بلکہ ان کا عمل اس تصویر کو خود جھٹلا رہا ہے۔قرآن کریم کی جو آیات میں نے آپ کے سامنے رکھیں ، جوتعلیم سنت نبوی کے حوالے سے