خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 327
خطابات طاہر جلد دوم 327 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۴ء جائے ، اس کی تو یہ بھی قبول نہ کی جائے ، سنو کہ گستاخی ہوئی اس کا خون تم پر مباح ہو گیا ، حلال ہے ہر مسلمان کے لئے کہ اس پر چڑھ دوڑے اور اس کو قتل کر دے۔پہلا سوال یہی ہے کہ کیا یہ تعلیم کسی خاص علاقے سے تعلق رکھتی ہے یا تمام دنیا سے؟ اگر تمام دنیا سے تعلق رکھتی ہے تو ہر ملک میں تمہارا یہی فرض ہے کہ اس تعلیم کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کر دو اور چڑھ دوڑو ہر دشمن پر اور کفر کے نام پر قتل کا بازار گرم کر دو۔مگر تم جانتے ہو اور خوب جانتے ہو اگر ایسی گستاخی کرو گے یعنی قرآن اور اسلام اور حدیث اور نبی کی گستاخی کرو گے اور اپنی تعلیمات اس پاک مذہب کی طرف منسوب کرو گے تو تمہارے خون کا بازار گرم ہو گا تم صفحہ ہستی سے نابود کر دیئے جاؤ گے۔تمہیں طاقت نہیں ہے کہ اس بات پر عمل کر کے دکھاؤ جس بات کا تم دعوی کرتے ہو۔الله پھر گستاخی کا کیا مطلب ہے؟ کیا آنحضرت ﷺ کو جھوٹا کہنا یا جھوٹا یقین کرنا گستاخی ہے کہ نہیں ؟ کیا یہودی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو سچا مانتے ہیں؟ ان کا مذہب ان کو مجبور کرتا ہے یہ کہنے پر کہ آنحضرت ﷺ مفتری ہیں۔جیسا کہ قرآن بتاتا ہے کہ اُس زمانے کے یہود کا بھی یہی دعوی تھا اور یہی مسلک تھا۔کیا عیسائی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو سچا جانتے ہیں؟ اگر نہیں اور تم جانتے ہو کہ نہیں تو کیا یہ گستاخی رسول نہیں کہ عیسائی آنحضور ﷺ کو مفتری قرار دیتے ہیں۔کیا ہندو آپ کو سچا جانتے ہیں؟ کیا دنیا کے دیگر مذاہب والے آپ کو سچا جانتے ہیں؟ اگر وہ سچا جانتے تو آپ کی صداقت کا اقرار کرتے اور اسلام سے باہر ایک آن بھی نہ رہتے۔پس ان لوگوں کے متعلق تمہارا کیا فتویٰ ہے؟ کیا آنحضور کو جھوٹا کہنے والا اور جھوٹا سمجھنے والا گستاخ رسول ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو پھر گستاخی کا کیا تصور تمہارے ذہن میں ہے؟ کیا اس سے زیادہ بھی کسی کی گستاخی ہو سکتی ہے کہ کسی کو جھوٹا کہہ دیا جائے۔تم لوگوں کا اپنا یہ حال ہے کہ جتنا چاہو جھوٹ بولوا گر تم پر کوئی کھلے بندوں یہ الزام لگائے کہ تم جھوٹے ہو تو تن کر سامنے کھڑے ہو جاتے ہو کہ ہیں ہیں ہمیں جھوٹا کیوں کہا، اور جو مرضی ہوں ہم جھوٹے نہیں، حالانکہ سرتا پا جھوٹے، جھوٹا کہنے پر قتل ہو جاتے ہیں اور سوئی ہوئی غیرت انسان کی یا نیم مردہ غیرت اچانک جاگ اٹھتی ہے اور جھوٹے بھی اپنی سچائی کی حفاظت کے لئے جان دینے پر تیار ہو جاتے ہیں اور اگر طاقتور ہوں تو جان لینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔پس کسی کو جھوٹا کہنا بہت بڑی گستاخی ہے اور تم جانتے ہو کہ تمام غیر مسلم اقوام