خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 184 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 184

خطابات طاہر جلد دوم 184 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء کی ہے اور اس کے نتیجے میں ان کو جیل کا منہ دیکھنے کی سعادت مل گئی۔لیکھتی ہیں کہ اس کے بعد جو واقعات ہوئے ہیں وہ تفصیل لمبی ہے، اس کو میں نے چھوڑ دیا ہے کہ بالآ خر گاؤں کے شرفانے اٹھ کر ان کے حق میں گواہی دی اور شور ڈالا اور وہ خود پہنچے افسران تک، انہوں نے کہا کہ ایسی نیک خاتون، ایسی اچھی خدمت کرنے والی استانی اور ہم جانتے ہیں کہ یہ تو محمد مصطفی ﷺ کی عاشق ہے تم اس پر ظلم کر رہے ہو تو سارے گاؤں پر ظلم کر رہے ہو؟ چنانچہ گاؤں والوں کے اثر سے مرعوب ہوکر ان لوگوں نے نہ صرف یہ کہ ان کو رہائی دی بلکہ اسی سکول میں ان گاؤں والوں کے اصرار پر ان کو بحال کیا گیا لیکن چک سکندر کے شریر اور ان کے چیلے پھر بھی ان کی راہ کاٹتے رہے اور بیٹھ کر ان پر تمسخر کرتے رہے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں: میں گرفتاری کے بعد ۲۹ مارچ ۱۹۹۰ء کو گرلز سکول سنت پورہ میں دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوگئی۔ایک ہفتے تک تو حالات پر سکون رہے۔پھر ایک روز مولوی امین محمد جوامیرمحمد چک سکندر والے کا دوست ہے اس نے گاؤں سنت پورہ کے کچھ شر پسند لوگوں سے مشورہ کر کے مجھے میرے گھر دھوریہ میں پیغام بھجوایا کہ میں سنت پورہ سکول میں ڈیوٹی نہ دوں ورنہ گولی کا نشانہ بن جاؤں گی۔میں یہ سوچ کر کہ اگر میری موت اس کے ہاتھ میں لکھی ہے تو میں جہاں بھی چھپ کر رہوں گی موت آ ہی جائے گی ، اگلے دن سکول گئی۔مولوی امین محمد میرے سکول جانے کے رستے میں سائیکل پر سوار درندوں کی طرح شکل بنائے میرے پاس سے گزرتا رہا۔اسے دیکھتے ہی میری زبان پر آتا ہے کہ یہ مؤمن موت سے نہیں ڈرتے۔میں سکول میں ڈیوٹی دے رہی ہوں لیکن کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اگر میں اس درندے کے ہاتھ چڑھ گئی تو بچے جو پہلے باپ کے پیار سے محروم ہیں، ماں کے پیار سے بھی محروم رہ جائیں گے۔میں اپنے گاؤں میں اکیلی احمدی ہوں ، جب ڈیوٹی پر جاتی ہوں تو بچے خدا کے حوالے ہوتے ہیں۔“ ( اس سے بہتر اور کوئی حوالہ نہیں ہوسکتا۔) عزیزہ ناصرہ پروین صاحبہ جو ہمارے اسیر راہ مولی محمد الیاس منیر واقف زندگی کی ہمشیرہ ہیں۔ویکھتی ہیں : ”میرا پیارا بھائی عزیزم محمد الیاس منیر واقف زندگی اسیر راہ مولیٰ آج کل B۔A کا امتحان دے رہا ہے۔اس غرض کے لئے اسے کیمپ جیل لاہور لے جایا