خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 185

خطابات طاہر جلد دوم 185 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء گیا، اسے لاہور لے جاتے وقت دوبارہ بیڑیاں ڈالی گئیں جو تین دن لگی رہیں۔بیٹریوں کے ساتھ ہی اس نے پرچے دیئے۔“ عبدالرحمن صاحب صدر جماعت احمد یہ چک 35۔شمالی سرگودھا لکھتے ہیں: اس سے قبل کئی نسلوں تک ہم نے نہ جیل دیکھی تھی اور نہ عدالت مگر خدا کے فضل سے دین کی خاطر ہمیں جیل جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔وجہ یہ تھی کہ ہم ایک عرصہ دراز سے ایک چھپر کے نیچے نماز پڑھتے تھے ، بادوباراں میں ہمیں شدید تکلیف ہوتی تھی۔ہم نے ایک مسجد بنانے کا ارادہ کیا اور اس کی تعمیر کے دوران ہی پولیس ہمیں پکڑ کر لے گئی۔بارہ دن جیل میں رہنے کے بعد ہمیں رہائی ملی ہے۔اب یہ لوگ مقامی سکولوں میں ہمارے بچوں کو اسلامیات نہیں پڑھنے دیتے۔“ مکرم محمد یوسف صاحب کا ٹھگڑھی میر پور آزاد کشمیر سے لکھتے ہیں، یہ اسی سال سے اوپر عمر کے بزرگ ہیں۔ان کی بات سمجھنے کے لئے میں اس تحریر کا پس منظر بتا دیتا ہوں۔جب ایبٹ آباد میں جماعت احمدیہ نے جلسہ کیا اور صاحبزادہ عبدالرشید صاحب کے ہاں یہ جلسہ منعقد ہوا ، تو اس جلسے کو اتنا بڑا جرم قرار دیا گیا کہ اس کے نتیجے میں صاحبزادہ عبدالرشید سمیت تمام ان احمدیوں کو حراست میں لینے کے احکام جاری کر دیئے گئے جو اس جلسے میں شریک تھے لیکن یہ صاحب وہ ہیں جو اس جلسے میں شریک بھی نہیں تھے۔یہ بیچارے پنشن یافتہ ہیں اور آزاد کشمیر سے اپنی پینشن لینے کے لئے ایبٹ آباد آئے تھے اور جس دن پولیس صاحبزادہ صاحب کو گرفتار کرنے کے لئے آئی، یہ صاحبزادہ صاحب سے مل کر اپنی پنشن کے سلسلے میں کوئی مدد لینا چاہتے تھے۔چنانچہ اس موقع پر اسی جرم میں دھر لئے گئے کہ یہ ایک ایسے احمدی سے ملنے آیا ہے جو اس جلسے میں شریک تھا۔کہتے ہیں : وو پیارے آقا ! میں ۷۵ دن جیل میں رہنے کے بعد 90-3-28 کو ضمانت پر رہا ہو کر اپنے گھر پہنچ گیا ہوں۔آگے لکھتے ہیں: مهدی نیا، ہتھ کڑیاں جھلیاں اساں چوم چوم لایاں بانہاں نال