خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 183
خطابات طاہر جلد دوم 183 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء ہماری حالت تھی اب اس حالت میں بہت فرق پڑ چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہر پہلو سے جماعت پہلے سے بڑھ کرشان کے ساتھ اس دنیا میں ابھری ہے۔اب میں آپ کے سامنے ان چند دکھوں اور مشکلات کا ذکر کرتا ہوں جن کا اجمالی ذکر میں نے کیا ہے۔یعنی پاکستان میں معصوم احمدیوں پر جو ابتلاء کا ہولناک دور چل رہا ہے اس کے ذکر کو کلیتہ اس چھوٹی سی مجلس میں بیان کرنا، اس کا حق ادا کرنا تو ممکن نہیں لیکن گزشتہ سال میں نے یہ تجربہ کیا تھا کہ اپنے نام موصول ہونے والے سال بھر میں دو لاکھ کے قریب خطوط میں سے چند اقتباسات پچن کر جلسے کے حاضرین کے سامنے پیش کئے تھے تا کہ میری زبان سے نہیں بلکہ دکھ محسوس کرنے والوں کی زبان سے اور ان تجارب میں سے گزرنے والوں کی زبان سے احباب جماعت ان واقعات کو سنیں اور سمجھیں اور جو لکھنے والے ہیں ان کے دل کی وارداتیں سنے والوں کے دل پر بھی جاری ہوں۔چک سکندر سے ذکر چلتا ہے ہماری ایک مخلص خاتون حمیدہ بیگم صاحبہ چک سکندر کی رہنے والی لکھتی ہیں: میں ایک سال سے بیمار چلی آ رہی ہوں۔حادثہ چک سکندر کے دوران میں بیمار تھی افراتفری کے دوران میں اپنی دو بچیوں کی جبکہ مکان جل رہا تھا جان بچانے کیلئے باہر نکلی تو دشمن نے مجھ پر فائر کیا جس سے میں شدید زخمی ہوئی اور میری بچیوں کو بھی کثرت سے شرے لگے۔( چھروں کو شرے لکھا ہے اس لئے میں اسی طرح پڑھتا ہوں) اس حالت میں جب میں جارہی تھی تو راستہ میں میرا چھوٹا بھائی رفیق احمد ثاقب شہید پڑا ہوا تھا۔دشمن مرے ہوئے کو زدو کوب کر رہا تھا، دیکھ کر غم در غم آتا مگر نوراحمدیت اور زیادہ روشن ہوتا چلا گیا، نصرت اور طاقت ملتی رہی مگر خون اس قدر بہہ رہا تھا کہ لباس تر بہ تر ہو رہا تھا اُدھر حشر برپا تھا مگر ادھر کلمہ شہادت لبوں پر جاری تھا۔“ پھر چک دھوریہ سے ایک احمدی خاتون جو وہاں سکول میں استانی ہیں اور از راہ ستم، سراسر افتراء کے نتیجے میں ان کو بھی اسیر راہ مولیٰ بنے کا موقع ملا۔سراسر بے بنیاد انتہائی جھوٹا اور بھیانک الزام ان پر یہ لگایا گیا کہ نعوذ باللہ من ذالک انہوں نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی گستاخی