خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 57 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 57

خطابات ناصر جلد دوم ۵۷ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء دیکھی ہے سمجھ نہیں آرہاوہ گھبرا گئے۔انہوں نے کہا کہ تمہیں سمجھ نہیں آئی خواب کی تعبیر یہ ہے کہ جو تمہیں مریض دکھایا گیا ہے وہ اسلام کی حالت ہے اور جو تمہیں طبیب دکھایا گیا ہے۔وہ مہدی معہود ہے اور یہ جو تمہیں دکھایا گیا ہے کہ وہ توجہ نہیں کر رہا چند قدم کے فاصلے پر بیٹھا ہوا ہے وہ زمانہ مکان کی شکل میں تمہیں کشف میں دکھایا گیا ہے۔چند سال بعد جتنے قدم تم نے اس کو پرے دیکھا اس کا ظہور ہوگا اور پھر مہدی کے ذریعہ حسب بشارات سابقہ امت محمدیہ کو وہ شان اور وہ عظمت جس کا وعدہ دیا گیا تھا ملے گی اور اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا لیکن جو خطرہ ہمارے دل میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح چودہ سو سال میں ضرورت پڑی مقربین الہی کی اور اسلام کی طرف منسوب ہونے والی نسلیں اسلام سے بے پرواہ ہو رہی تھیں اور توجہ نہیں کر رہی تھیں اور اپنے عقائد کو بھول گئی تھیں اور انہوں نے عجیب و غریب روایتیں بنالی تھیں۔مجھے تو شرم آتی ہے ان کے بیان کرنے سے اور یہ ہمارے جلسے کا مقدس وقت ہے اس میں موزوں بھی نہیں لگتا کہ آپ کو بتاؤں کہ کس قسم کی چیزیں عقائد اسلامیہ میں داخل کر دی گئیں۔جب وہ باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔خیر ! وہ زمانہ گذر گیا۔ہمیں اپنی فکر کرنی چاہئے۔اس لئے میں نے مضمون یہ منتخب کیا ہے کہ ہمارے عقائد اسلام نے ہمیں کس عقیدہ پر مہدی معہود کے ذریعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل قائم کیا ہے یہ میرے مضمون کا عنوان تھا اور میں نے قرآن عظیم کو پہلے لیا ہے کیونکہ قرآن کریم نے ہی ہمیں اللہ تعالیٰ سے متعارف کرایا اور قرآن کریم میں ہی ہمیں مد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دکھائی گئی اور قرآن کریم میں ہی ہمیں دین محمدی کی عظمت بتائی گئی۔قرآن کریم پر جب ہم غور کرتے ہیں تو اس میں دو بنیادی چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں جن کے اوپر قرآنی تعلیم کھڑی ہے ایک بنیادی چیز یہ ہے کہ قرآن کریم نے ابدی صداقتیں جو ہیں۔جن میں زمانہ کے ساتھ کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی انہیں کھول کر بیان کر دیا اور دوسرے یہ کہ جو زمانے کے حالات پر ابدی صداقتوں کا اطلاق ہونا تھا۔اس کی شکلیں بدلی ہوئی ہوئی تھیں اور ان بدلی ہوئی شکلوں میں قرآن کریم نے جو راہنمائی کرنی تھی اس کے لئے قرآن کریم کی تعلیم کے ایک حصے کو خود قرآن کریم کے دعوی کے مطابق مکنون کہا گیا یعنی چھپی ہوئی تعلیم جس کو ہم اسرار روحانی کہتے ہیں اسرار اور رموز سے یہاں مراد قرآن کریم کے وہ حصے ہیں جن کے متعلق خود قرآن کریم نے کہا فِي كِتُبِ مَّكْنُونِ (الواقعة : ٧٩)