خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 58
خطابات ناصر جلد دوم ۵۸ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کہ یہ ایک چھپی ہوئی کتاب بھی ہے اور ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق خدا تعالیٰ کا ایک بندہ اللہ تعالیٰ سے قرآن کریم کے معانی کو سیکھتا اور دنیا کی اصلاح کرتا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے آج کے زمانہ میں بے شمار نئی چیزیں آگئیں اس کے لئے کتاب مکنون“ سے حصہ لینے والے موجود ہونے چاہئیں اور پھر اس زمانہ میں جو ابدی صداقتیں تھیں وہ نظروں سے اوجھل ہو نے لگیں اس کے لئے قرآن کریم کا جو بین حصہ تھا۔تبيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ والا حصہ خدا تعالیٰ کا کوئی بندہ کھڑا ہونا چاہئے جو ہمیں بتائے کہ یہ ابدی صداقتیں ہیں ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں پیدا ہوئی۔قرآن کریم نے سور محل میں یہ فرمایا۔وَنَزَلْنَا عَلَيْكَ الكِتبَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ ( النَّحل: ٩٠) یعنی جو مفہوم میں آپ کو بتا رہا ہوں اور پھر یہ بتایا کہ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ کے نتیجے میں ایک مشتمل ؟ ويه هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (البقرة : ۳) ہے دوسرے رحمت ہے اور تیسرے یہ بشارتوں پر تی جو تبيَانًا یعنی تین چیزیں ہیں اس کے لئے عقلی دلائل بھی دیئے اور شواہد بھی اور محسوس ، جن کو ہماری حسیں محسوس کر رہی ہیں۔وہ بھی اس نے بنائیں۔قرآن کریم نے ابدی صداقتوں کو اپنے اندر محفوظ رکھا لیکن انسانی دماغ نے ابدی صداقتوں کو نہیں محفوظ رکھا۔یا تو اپنے ذہن سے نکال دیا۔یا جن کے ذہن میں تھا انہوں نے اپنے عمل سے نکال کے باہر پھینک دیا۔خود قرآن کریم کو یہ اعلان کرنا پڑا يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : ۳۱) اے میرے ربّ میری اس قوم نے تیری اس عظیم کتاب اور شریعت اور ہدایت کو اپنی پیٹھوں پیچھے پھینک دیا۔قرآن کریم نے خود یہ اعلان اس لئے کیا کہ اگر کوئی انسان کرتا تو ایک دنیا نا سمجھی کی وجہ سے اس کے پیچھے پڑ جاتی اس لئے قرآن کریم سے یہ اعلان کروایا کہ قرآن کریم ایک وقت میں یہ کہے گا یا ہر زمانہ میں کسی علاقہ میں یہ کہتا رہا ہے کہ اس قوم نے مجھے ( قرآن کریم کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا ہے مہجور بنادیا ہے۔قرآن کریم نے جو ابدی صداقتیں پیش کیں اس کے پھر دو حصے ہیں ایک وہ ابدی صداقتیں جو کسی شکل میں حصوں میں بٹ کے پہلی کتب میں پائی جاتی تھیں۔قرآن کریم نے ان کو محفوظ کر لیا اور دوسرے وہ ابدی صداقتیں جن کو انسانی دماغ بحیثیت کل سمجھنے کے قابل نہیں تھا ان صداقتوں کو مجموعی طور پر قرآن کریم نے محفوظ کر لیا۔مثلاً ایک چھوٹی سی مثال میں دوں گا۔اس بات کو سمجھانے کے لئے جو سزا کا حصہ ہے پہلی شریعتوں نے معین سزا معین جرم کی بتادی۔