خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page vi
ہے اور پندرھویں صدی ہجری کے پہلے دن کی یہ پہلی تقریر، افتتاحی تقریر ہے۔جب ہم ماضی کی طرف دیکھتے ہیں تو پچھلی صدی ، چودھویں صدی ایک ایسی صدی ہے جس کے ساتھ ہمارا اور ہمارے محبوب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارے پیارے مذہب اسلام کا بڑا گہرا تعلق ہے۔مجموعی طور پر اگر نظر ڈالی جائے جانے والی صدی پر تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم روحانی قوت ، قوت قدسیہ کے نتیجہ میں جو انقلاب بپا ہوا اور جس نے اس زمانہ میں اپنے عروج کو پہنچنا تھا اس کی بنیاد پڑی۔اگر ہر شخص دوسرے کی خدمت کے لئے تیار ہو جائے تو آج دنیا سے فساد مٹ جاتا ہے اور فساد نے مٹنا ہے اس صدی میں۔میں تمہیں بتارہا ہوں فساد نے مٹنا ہے اس صدی میں انشاء اللہ اور میرے اور تمہارے ہاتھوں سے مٹنا ہے اور ہمیں اس کے لئے قربانیاں دینی پڑیں گی اور ہم اس کے لئے قربانیاں دیں گے۔حیح ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء کو جماعت کو ستارہ احمدیت عطا کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: دل میں آپ کے یہ تڑپ تھی کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے پہلے ہزاروں ، لاکھوں ، خدا جانے کتنے؟ آسمان کے ستارے بنے جماعت احمدیہ کے سارے افراد ہی ستارے بن جائیں۔یہ دیکھ کر پڑھ کے، غور کر کے دعا کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ آج میں آپ کو ستارہ احمدیت دوں جو علامت ہو Symbol ہوان برگزیدہ احمدیوں کا جو آسمانی رفعتوں پرستاروں کی طرح پیدا ہوئے اور قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے، ۲۷ دسمبر ۱۹۸ء کو حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: منصورہ بیگم (نور اللہ مرقدها) نے میرے ساتھ دینی ذمہ داریوں کو نباہتے ہوئے اس طرح زندگی گزاری جس طرح دو چیزیں ایک زندگی گزار رہی ہوں۔یعنی یہ بھی درست نہیں ہوگا کہنا کہ ہمیں ایک دوسرے سے پیار تھا کیونکہ اس میں بھی دُوئی پائی جاتی ہے۔ہم دونوں نے ایک زندگی گزاری۔خاموشی کے ساتھ جتائے بغیر، اظہار کئے بغیر وہ اس بات کا بھی خیال رکھتی تھیں کہ میری زندگی کے کسی دن میں دومنٹ بھی ضائع نہ ہوں تا کہ وہ دومنٹ میں سلسلہ کے کاموں میں خرچ کر سکوں۔ہر کام اپنے ہاتھ سے صفائی کے ساتھ ، وقت کے اوپر میرے کھانے کا خیال رکھنا، میرے پینے کا خیال رکھنا، میری حفاظت کا خیال رکھنا، میرے جذبات کا خیال رکھنا اور میں نے سوچا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نقش قدم پر چلنے والی صرف ایک تو نہیں ہوئیں پیدا ، نہ صرف ایک کی ضرورت ہے۔