خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page v of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page v

۲۷ دسمبر ۱۹۷۹ء کو صد سالہ جو بلی فنڈ کا ذکرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا: میں نے صد سالہ جو بلی کا جب اعلان کیا اُس وقت جو میرے دماغ میں خیال تھا اس کے مطابق اعلان کیا جب خدا تعالیٰ میرے فیصلہ کو ٹھکرا کے ردی کاغذ کی طرح پھاڑ کے پرے پھینک دے نا ، تو اتنی خوشی ہوتی ہے مجھے کہ کوئی حد نہیں اور میں بتاتا ہوں کیوں خوشی ہوتی ہے میرا اندازہ تھا اور بڑے ڈر ڈر کے میں نے اعلان کیا کہ دو کروڑ پچاس لاکھ روپیہ اگلے پندرہ سال میں جمع کر دے جماعت تا کہ ہم آنے والی غلبہ اسلام کی صدی کا شایانِ شان استقبال کر سکیں۔مگر جو وعدے ہوئے وہ نو کروڑ بانوے لاکھ کے یعنی قریباً دس کروڑ کے وعدے ہو گئے۔میں نے کہا تھا ابھی دس سال رہتے ہیں اُس زمانہ میں کہ پندرہ سال تک اڑھائی کروڑ جمع کر دو اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جو وصولی ہو چکی ہے وہ قریباً دو کروڑ انیس لاکھ روپے کی۔یعنی قریب قریباً اتنی جو میں نے سارے زمانہ کے لئے اعلان کیا تھا۔۲۷ رسمبر ۱۹۷۹ء کو ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو نوبل انعام ملنے پر حضور نے فرمایا: بڑا عظیم یہ الہام ہے بڑی عظیم یہ پیشگوئی ہے کہ ”میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گئے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ اگلے دس سال کے بعد آنے والے سو سال میں جس صدی کو میں غلبہ اسلام کی صدی کہتا ہوں ہمیں ایک ہزار سائنسدان اور محقق چاہئیں اور یہ جو اس سے پہلے دس سال ہیں اس میں ایک سوسائنسدان اور محقق چاہئیں لیکن آج تک یہ ایک پیشگوئی تھی جس کا ایک بھی مظہر ہمارے سامنے نہیں تھا۔یعنی کچھ اس طرح وہ ابھرا ہو اور آسمانوں تک پہنچا ہو اپنی علمی تحقیق میں کہ واقع میں اُس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ علم اور معرفت میں اُس نے کمال حاصل کیا اور اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رُو سے سب کا منہ بند کر دیا۔(اپنے حلقہ تحقیق میں ) آئن سٹائن بہت بڑا سائنسدان گزرا ہے۔انہوں نے بھی کام کیا اور ناکام ہوئے اور ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے کام کیا اس پر اور وہ کامیاب ہوئے اور اُن کو نوبل پرائز ملا اور دنیا کے چوٹی کے سائنسدانوں میں پہنچ گئے۔حمله ۲۶ دسمبر ۱۹۸۰ء کو پندرھویں صدی کے پہلے جلسہ کے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: پندرھویں صدی ہجری کا یہ پہلا جلسہ ہے اور پندرھویں صدی ہجری کے پہلے جلسے کا یہ پہلا دن