خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page vii of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page vii

ہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء کو تعلیمی منصوبہ کا ذکر کرتے ہوئے حضورا نور نے فرمایا: میں نے اپنی جماعت کو کہا ہر جگہ جہاں میں گیا کہ جب تک ہم علم کے میدان میں انہیں شکست نہیں دیں گے اسلام کی بالا دستی ان سے نہیں منوا سکتے۔یہ منصوبہ علمی ویسے ہی نہیں بن گیا۔اسی کے پیچھے یہ تصور یہ حقیقت جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائی تھی اس کے اوپر میں نے بنیاد رکھی تھی اس کی جس میں تمغے بھی ملے ، جس میں اور بہت ساری چیزیں شامل ہیں۔ہم نے ساری دنیا کے سب سے بڑے عالموں کو علم کے میدان میں شکست دینی ہے۔جس طرح ہم سے پہلے بزرگوں نے دی انہیں اور اس طرح اسلام کی برتری ثابت کرنی ہے۔۲۷ دسمبر ۱۹۸۱ء کو مخزن الكتب العلمية کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں نے سوچا کہ جو ہماری بنیادی کتابیں ہیں۔ان میں جو اخلاص ہے اور جو روحانی ضرورت ہے اس کو بلیک نہیں ہونے دوں گا۔اس واسطے آپ نے دیکھا ہوگا کم از کم باہر سے بہت ساروں نے ) وہ ایک عمارت بن گئی۔ظاہر سے بھی خوبصورت ہے اور جگہ بڑی ہے اندر کتا بیں رکھنے کی۔ابھی تو کام شروع کرنا تھا۔تعمیر میں کچھ دیر ہوئی تھی۔تو ۱/۴ حصے میں بارہ تیرہ ہزار کتب آگئی تھیں اور میرے خیال میں خالی ہو جائے گا۔خدا کرے کہ وہ سارا خالی ہو جائے پھر پھرنی پڑیں ہمیں۔اگلے جلسے تک پچاس ساٹھ ہزار کتا بیں بکاؤ اس کے اندر ہوں گی۔ہر وہ کتاب جو آپ کے لئے ضروری ہے وہاں اس کے نسخے موجود ہوں گے۔ایک تو یہ ہے کہ وقت ضائع کئے بغیر آپ وہاں سے خرید سکتے ہیں دوسرے یہ کہ کنٹرول ریٹ پہ خرید سکتے ہیں۔۲۷ دسمبر ۱۹۸۱ء کو نصرت جہاں ریز روفنڈ کا تذکرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: ایک سال کا بجٹ آمد و خرچ تین کروڑ گیارہ لاکھ چھتیس ہزار آٹھ سو چھیں (۳۶۸۲۶ ،۳۱۱) اور ریز رو بھی کافی وہاں پڑے ہوئے ہیں جہاں ہمیں کھڑا نہیں ہونے دیتا اللہ تعالیٰ۔مثلاً ہسپتال ہے ایک بلاک ختم ہوا ہے، ضرورت ہے، اگلا بلاک بناؤ۔اوزار ہیں منگوالو۔یعنی کسی جگہ (میں نے بتایا تھا ناوہ تو کہتا ہے۔يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (البقرة :۲۱۳) مجھے یہ سوچنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی کہ پیسے کہاں سے آئیں گے۔میں بڑا عا جز انسان ہوں اور خدا تعالیٰ پھر انتظام کر دیتا ہے اور