خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 553
خطابات ناصر جلد دوم پیدا کرے ۵۵۳ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء دوسرے یہ کہ اللہ اس سے پاک ہے کہ اُس کی طرف یہ بات منسوب کی جائے کہ کوئی شئی جو موجود ہو، وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ نہ ہو بلکہ اس کا خالق کوئی اور ہستی ہو۔اور باطلا میں یہ معنی بھی ہوں گے کہ تمام ارواح اور اُن کی تمام قوتیں ، تمام اجسام، ان کی ساری طاقتیں اللہ ہی کی پیدا کردہ ہیں۔باطل نہیں ہیں۔ایک اور معنے اس کے یہ ہیں کہ عالم کی اشیاء میں سے جو کچھ موجود ہے۔( یہ اُسی کے تسلسل میں ہے) سب کا اللہ مالک ہے اور یہ سب اشیاء اس کا ئنات کی اُس جگہ کہیں اس کا ئنات سے بھی آگے کوئی اور کائنات ہے تو اس کی بھی مخلوق ہیں اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے اور ہستی حقیقی بجز ایک ذات حضرت باری تعالیٰ کے اور کسی چیز کے لئے حاصل نہیں۔جو حقیقی ہستی ، وجود ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کا ہے اور خدا تعالیٰ اپنی ربوبیت تامہ کے ساتھ عالم کے ذرہ ذرہ پر ہر وقت متصرف اور حکمران ہے۔یہ نہیں کہ پیدا کیا اور چھوڑ دیا۔ہر آن اور ہر وقت اس کائنات کے ہر ذرہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے اور اپنی مرضی سے وہ اُس میں تبدیلی پیدا کرتا ہے اور حکم اُسی کا چلتا ہے اور کوئی وقت ایسا نہیں کہ اُس کے رقیہ فیض سے خالی ہو۔اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی چیز پر نازل ہونا بند ہو جائے تو وہ اُس کے لئے موت یا ہلاکت ہے بلکہ عالم کے بنانے کے بعد پھر اس مبدء فیوض کی فی الحقیقت بلا ایک ذرہ تفاوت کے ایسی ہی حاجت رکھتا ہے کہ کوئی بھی ابھی تک اُس نے کچھ بھی نہیں بنایا۔ایک اور معنی اس کے یہ ہیں کہ وہ اپنی مرضی اور ارادہ کے یعنی اس میں یہ نقص نہیں پایا جاتا کہ وہ اپنی مرضی نہ چلائے۔وہ اپنی مرضی اور ارادہ کے موافق ہر چیز کی ربوبیت کر رہا ہے اور یہ نہیں کہ بلا ارادہ کسی شے کے ربوبیت کا موجب ہو۔اس صداقت کا یہ منشا ہے کہ ہر ایک چیز کو جو عالم میں پائی جاتی ہے وہ مخلوق ہے اور اپنے تمام کمالات اور تمام حالات اور تمام اوقات میں خدا تعالیٰ کی ربوبیت کی محتاج ہے۔اور ایک اور معنے یہ کہ کوئی روحانی یا جسمانی ایسا کمال نہیں جس کی کوئی مخلوق خود بخو د اور بغیر ارادہ خاص اس متصرف مطلق کے حاصل کر سکتا ہو۔اس کائنات میں مخلوق چیز میں درجہ بدرجہ ترقی کرتی ہوئی کمالات حاصل کرتی ہیں۔موٹی مثال خود انسان کی ہے جو درجہ بدرجہ زمین سے اُٹھ کر ساتویں آسمان