خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 552
خطابات ناصر جلد دوم ۵۵۲ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء اس لئے بھی کہ سوائے قرآن کریم کے ہمارے پاس کچھ اور ہے ہی نہیں۔قرآن کریم کی تعلیم پر بنیا درکھ کے میں یہ بتاؤں گا کہ سُبْحَانَ اللہ کے معنے حقیقتاً کیا ہیں۔پہلے ہم لیتے ہیں لغت کو ، اقرب ایک لغت کی کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ سبح الله کے معنے ہیں۔نزھہ۔اللہ کی ذات کو تمام عیوب ونقائص سے پاک سمجھا اور مبر اقرار دیا۔اور لسان العرب میں تسبیح کے معنے تنزیہ کے ہیں۔پاک قرار دینا اور پاک سمجھنا۔دوسرے یہ لکھتے ہیں کہ سُبْحَانَ اللہ کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تمام اُن باتوں سے متبرا قرار دینا جو اس کے شایانِ شان نہیں اور مناسب حال نہیں ہیں۔تیسرے وہ کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی مثل یا شریک ہو۔یا ذات یا صفات میں اُس کا کوئی حصہ دار ہو۔یہ بھی ایک بد خیال پیدا ہو گیا تھا انسان کے دماغ میں۔اور تاج العروس میں ہے ہر نقص سے پاک سمجھنا اور ہر عیب سے مبرا قرار دینا۔اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے کامل پاکیزگی کا اقرار کرنا۔یہ لفظ جب بولا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ایسی کامل پاکیزگی کہ جو ان تمام عیوب سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو پاک قرار دیتی ہو جو اس کی طرف مشرک لوگ اس کی ذات کو کما حقہ، نہ سمجھ کر منسوب کر دیتے ہیں۔یہی معنی راغب نے جو قرآن کریم کی لغت ہے اُس نے لکھے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هذا بَاطِلا ( آل عمران : ۱۹۲) یہاں باطل کا لفظ استعمال ہوا اور عربی زبان بہت سے بطون کی حامل ہوتی ہے۔اس لئے اس سے بہت سے نتائج نکلے۔ہاں ایک میں یہ بات بتادوں کہ میرے اس مضمون کی بنیاد تین چیزیں ہیں۔زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر قرآنی۔ایک دو باتیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر سے لی ہیں اور کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے اُسی سے براہِ راست سیکھی ہیں۔باطِلاً کے ایک معنے یہ ہوں گے اللہ اس بات سے پاک ہے کہ کوئی شئی بے فائدہ اور بے مقصد