خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 551
خطابات ناصر جلد دوم ۵۵۱ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء قرآن کریم کی تعلیم پر بنیا درکھ کر میں بتاؤں گا که سبحان اللہ کے معنے حقیقتا کیا ہیں؟ اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔میرے مضمون کا عنوان ہے سُبْحَانَ اللہ۔اللہ تعالیٰ کی عظمت اس کی کبریائی اور علوشان نہ سمجھتے ہوئے انسان ہمیشہ ہی بہکتا رہا۔بعض انسان اپنی عقل سے اس غلط نتیجہ پر پہنچے کہ اللہ تعالیٰ کی طرح روحیں جو ہیں ارواح اور مادی ذرات جو ہیں وہ ابدی از لی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہیں ہیں۔بعض انسان اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر خدا تعالیٰ کا بیٹا بنا لیا جائے یا بیٹا سمجھا جائے یا بیٹیاں سمجھی جائیں یا خدا کا باپ سمجھا جائے تو اللہ تعالیٰ کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔بعض نے شرک کی یہ دلیل بنالی کہ خدا تعالیٰ کی تحرب کی راہیں پتھر کے یہ بت ہمارے لئے کھولیں گے۔یا یہ کہ روز جزا جن بتوں کی ہم پرستش کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری شفاعت کریں گے۔خدا تعالیٰ کی عظمت کو نہ سمجھتے ہوئے بعض لوگ اس بحث میں پڑ گئے کہ خدا تعالیٰ اپنی مثل ایک اور خدا بنا سکتا ہے یا نہیں۔بعض نے یہ بخشیں شروع کر دیں کہ کیا خدا تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے یا چوری کرسکتا ہے یا نہیں۔غرض کہ تو حید خالص سے پرے ہٹ کر اندھیروں کی دُنیا میں جو اپنی عقلیں دوڑائیں تو مختلف ، غلط۔بھیانک۔توحید سے دُور عقائد انسان کے بن گئے۔قرآن کریم اس پہلو سے بھی ایک کامل اور مکمل کتاب ہے کہ اُس نے جس تفصیل کے ساتھ اور جن روشن دلائل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارہ میں انسان کو بتایا وہ کہیں اور ہمیں نظر نہیں آتا۔اس لئے اور