خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 528 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 528

خطابات ناصر جلد دوم ۵۲۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء میں نے پہلے بھی بتایا ہے مجھے کسی نے کہا 'نصرت جہاں ریزرو فنڈ میں ترین لاکھ کے قریب رقم جمع ہوئی تو بعض سمجھدار خلوص نیت رکھنے والے انہوں نے کہا مجھے اسے تجارت پر لگا دیں اور جو آمد ہو اس سے کام کریں۔میں نے پوچھا کتنا نفع مجھے مل جائے گا۔ایک صاحب نے کہا بارہ، چودہ فیصد مل جائے گا۔میں نے کہا دیکھیں ! جس سے میں تجارت کرنا چاہتا ہوں اس نے تو مجھ سے وعدہ کیا ہے میں بغیر حساب کے دوں گا اور بغیر حساب کے دیا۔ترپن لاکھ آپ نے کل سرمایہ دیا تھا اور اس سال کا بجٹ ساڑھے تین کروڑ۔ترتین لاکھ سرمایہ اور ایک سال کا بجٹ ساڑھے تین کروڑ۔تو ہم نے کیا قربانی دی ترین لاکھ ؟ اور ساڑھے تین کروڑ کا سامان خدا تعالیٰ نے کر دیا اپنے فرشتوں کو بھیج کر۔مثلاً ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا دی۔کوئی منڈی آپ کے علم میں ایسی ہے جہاں شفا بکتی ہو؟ میرے علم میں ایک منڈی ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی منڈی ہے۔وہاں سے مل گئی ہمیں۔( نعرے) تو یہ میں نے ان کو اچھی طرح سمجھانے کی کوشش کی ہے آپ کو ان کے ساتھ تعاون کرنا پڑے گا اور انہیں آپ کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا۔ساری جماعت کو ایک خاندان کی طرح، ہر خاندان کو ایک فرد کی طرح یعنی یوں بالکل جڑے ہوئے۔ایک جہت ہماری مقرر ہے۔مست خدا تعالیٰ کے عشق میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں دیوانہ اور ایک مقصد سامنے ہے کہ ہم نے ساری دنیا کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے (نعرے)۔اگر ہمیں کوئی گالی دیتا ہے تو میں سچ کہتا ہوں کہ میرے پاس وقت نہیں ہے کہ اس کی طرف توجہ بھی کروں۔اگر کوئی خنجر گھونپنے کی کوشش کرتا ہے تو اتنا وقت نہیں کہ میں ہاتھ سے اس کو پرے ہٹاؤں۔وہ اور قصہ ہے۔وہ ایک اور وعدہ ہے ایک حسین بیان ہے۔قرآن کریم میں۔قرآن کریم میں آتا ہے۔فَاصْفَحُ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَمُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (الزخرف : ٩٠) یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے اس کے نئے معنی سکھائے ہیں ایک نیا بطن ظاہر ہوا ہے نظر انداز کر دو ان کو اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ در گزر کر و۔مگر میں اس وقت وہ معنی نہیں کر رہا۔نظر انداز کر دو ان کو قُل سلم“ اور کہہ دو انہیں کہ ہم خدا کی پناہ اور حفاظت میں ہیں۔فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ جلد ہی انہیں پتہ لگ جائے گا۔( نعرے) اور ہماری دعا ہے کہ جلد ہی انہیں