خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 527
خطابات ناصر جلد دوم ۵۲۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء ہوتے ہیں (بے دھڑک ، بے فکر ) اور بڑی برکتیں جماعت وہاں حاصل کر رہی ہے اور ہر وہ جو احمدیت میں داخل ہو گا خلوص دل کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والا ہو گا۔آج زنانہ جلسہ گاہ میں میں نے حضرت منصورہ بیگم (نور اللہ مرقدها) کی وفات کا ذکر کر کے ان کو ایک بنیادی حقیقت سے آگاہ کیا تھا۔مختصر دو ایک منٹ میں میں آپ کو بھی بتانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے حقیقت، کہ منصورہ بیگم (نور الله مرقدها) نے میرے ساتھ دینی ذمہ داریوں کو نباہتے ہوئے اس طرح زندگی گزاری جس طرح دو چیزیں ایک زندگی گزار رہی ہوں۔یعنی یہ بھی درست نہیں ہوگا کہنا کہ ہمیں ایک دوسرے سے پیار تھا کیونکہ اس میں بھی دُوئی پائی جاتی ہے۔ہم دونوں نے ایک زندگی گزاری۔خاموشی کے ساتھ جتائے بغیر ، اظہار کئے بغیر وہ اس بات کا بھی خیال رکھتی تھیں کہ میری زندگی کے کسی دن میں دو منٹ بھی ضائع نہ ہوں تا کہ وہ دو منٹ میں سلسلہ کے کاموں میں خرچ کر سکوں۔ہر کام اپنے ہاتھ سے صفائی کے ساتھ ، وقت کے اوپر میرے کھانے کا خیال رکھنا، میرے پینے کا خیال رکھنا، میری حفاظت کا خیال رکھنا، میرے جذبات کا خیال رکھنا اور میں نے سوچا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نقش قدم پر چلنے والی صرف ایک تو نہیں ہوئیں پیدا، نہ صرف ایک کی ضرورت ہے۔میں نے احمدی بہنوں کو یہ کہا کہ اگلے نو سال جو ہیں ہماری زندگی کے وہ بڑے اہم ہیں۔مشکل بھی ہیں ایک معنی میں لیکن اتنی رحمتوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں کہ اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔اس واسطے ہر چیز بھول کے تم بیوی ہو تو خاوند کے ساتھ ایک زندگی گزار و اور وہ ہو دینِ اسلام کو غالب کرنے کی مہم جو ہے اسے کامیاب کرنا۔ہر چیز بھول جاؤ۔اگر بیٹی ہو تو باپ کے ساتھ ایک زندگی گزارو۔اگر بہن ہو تو بھائی کے ساتھ ایک زندگی گزارو۔یعنی سارا خاندان (صرف ایک فرد نہیں ) سارا خاندان اور خاندانوں کا مجموعہ ہی جماعتیں اور قو میں بنا کرتی ہیں ) ایک ہو کر انتہائی کوشش کرے کہ وہ عظیم ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالی اور یہ کہا یہ وعدہ دیا ہمیں کہ اخلاص کے ساتھ کام کرو گے تو جتنا تم سے ہو سکتا ہے وہ کر دینا، باقی سارا میں اپنی طرف سے کر دوں گا اور سارے کی جزا تمہیں دے دوں گا ( نعرے) اور ہم نے دیکھا اپنی زندگیوں میں فرشتے آکے کام کر جاتے ہیں اور جزا اور بدلہ جو ہے وہ ہمارے اعمال میں لکھا جاتا ہے اور برکتیں ہم حاصل کر سکتے ہیں۔دھیلہ ہم خرچ کرتے ہیں اور کروڑ کا نتیجہ نکل آتا ہے۔یہ باقی اتنی بڑی رقم کہاں سے آگئی ؟ برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔