خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 529 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 529

خطابات ناصر جلد دوم ۵۲۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء اس رنگ میں پتہ لگے کہ جس صداقت کو ہم نے پایا وہ بھی پالیں اور جو انعام ہمیں مل رہے ہیں انہیں بھی ملنے شروع ہو جائیں۔یہ آج کا عنوان جو ہے وہ عام باتیں جو گزریں، جو ہوئیں۔تعلیمی منصوبه دوسری چیز جو ہے وہ تعلیمی منصوبہ ہے میں نے اپنے پچھلے سال کے تین براعظم کے دوروں میں بھی جماعت کو یہ کہا کہ اس وقت یہ مہذب دنیا بہت آگے نکل چکی ہے علمی میدان میں۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہیں مفلوج۔یعنی جو علم کے میدان چار تھے ان میں سے صرف دو میں آگے نکلے۔جسمانی طاقت سے جو لم تعلق رکھتا تھا اس میں آگے نکلے۔جو ذہنی علم ہے اس میں آگے نکلے لیکن اخلاقی علوم میں روحانی اسرار جو ہیں ان کا تو انہیں کچھ پتہ ہی نہیں۔اس واسطے انہیں ہم مفلوج کہہ سکتے ہیں آگے نکلے ہم لیکن میں نے اپنی جماعت کو کہا ہر جگہ جہاں میں گیا کہ جب تک ہم علم کے میدان میں انہیں شکست نہیں دیں گے اسلام کی بالا دستی ان سے نہیں منوا سکتے۔یہ منصوبہ علمی ویسے ہی نہیں بن گیا۔اس کے پیچھے یہ تصور یہ حقیقت جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائی تھی اس کے اوپر میں نے بنیا درکھی تھی اس کی جس میں تم نے بھی ملے ، جس میں اور بہت ساری چیزیں شامل ہیں۔ہم نے ساری دنیا کے سب سے بڑے عالموں کو علم کے میدان میں شکست دینی ہے۔جس طرح ہم سے پہلے بزرگوں نے دی انہیں اور اس طرح اسلام کی برتری ثابت کرنی ہے۔(نعرے) اس سلسلہ میں وظائف بھی ہیں، تم نے بھی ہیں۔یہ اعلان بھی ہے کہ جہاں جینیئس (Genius) ملیں گے ہم سنبھالیں گے جتنا بھی جماعت کو خرچ کرنا پڑے وہ خرچ کریں، ہمیں اپنی جائیداد میں بیچ کے بھی ذہن کو جلا دینی پڑے ہمیں روشنی پیدا کرنی چاہئے اور جیسا کہ ابھی آپ کو پتہ لگا، اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا۔دو سال میں بنتیں تمغے ہمارے ہونہار بچوں نے صاحب فراست نے لئے اور بڑا جذ بہ پیدا ہو گیا ہے لیکن میں کہتا ہوں ابھی کم ہے۔تیز کر واپنے جذ بے کو۔آگے نکلو سب سے۔احمد یہ بک ڈپو ایک اور چیز جس کی کمی تھی وہ تھی قادیان میں تھا احمد یہ بک ڈپولیکن حالات بدلے وہاں سے