خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 498
خطابات ناصر جلد دوم ۴۹۸ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو وہ کیا تھا۔وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا۔اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس امّی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔“ ( برکات الدعار وحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۱۷۱۰) جس کو روٹی دینے کے لئے بھی وہ تیار نہیں تھے اس نے ان کی جھولیاں روحانی خزائن سے بھر دیں۔اللَّهُمَ صَلّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ (نعرے) پھر آپ کی قوت قدسیہ اور روحانی فیوض و ہیں ختم نہیں ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جاودانی زندگی پر یہ بھی بڑی ایک بھاری دلیل ہے کہ حضرت ممدوح کا فیض جاودانی جاری ہے اور جو شخص اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے۔ایک روحانی زندگی اس کو بخشی جاتی ہے۔اور آسمانی مد دیں اور سماوی برکتیں اور روح القدس کی خارق عادت تائیدیں اس کے شامل حال ہو جاتی ہیں اور وہ تمام دنیا کے انسانوں میں سے ایک منفر دانسان ہو جاتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس سے ہمکلام ہوتا ہے اور اپنے اسرار خاصہ اس پر ظاہر کرتا ہے اور اپنے حقائق ومعارف کھولتا ہے اور اپنی محبت اور عنایت کے چپکتے ہوئے علامات اس میں نمودار کر دیتا ہے اور اپنی نصر تیں اس پر اتارتا ہے اور اپنی برکات اس میں رکھ دیتا ہے اور اپنی ربویت کا آئینہ اس کو بنا دیتا ہے اس کی زبان پر حکمت جاری ہوتی ہے اور اُس کے دل سے نکات لطیفہ کے چشمے نکلتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد پنجم صفحه ۲۲۱ ۲۲۲) دوسری نسبت خاتم الانبیا ہونے کے لحاظ سے، دوسرا پہلو جس کی رو سے آپ تمام انبیا سے افضل اور خاتم الانبیا ہیں وہ یہ ہے کہ آپ کو ایک کامل کتاب ملی۔ایک ایسی شریعت جس کے اندر وہ علوم کوٹ کوٹ کے بھر دیئے گئے کہ قیامت تک انسانی نسل کو کوئی ایسا مسئلہ پیش نہیں آ سکتا جس کا حل اس قرآن عظیم میں نہ ہو۔میں نے بہت سے دورے کئے ہیں باہر۔اور وضاحت کے ساتھ یہ بات ان کے سامنے