خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 497
خطابات ناصر جلد دوم ۴۹۷ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیا میں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو ان کی امت سے باہر ہو۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸۱) انبیاء کی نسبت سے خاتم النبیین جو ہیں آپ یعنی وہ افضلیت، وہ کمال، بہت سارے کمالوں کی وہ انتہا جس نے آپ کو ممتاز کر دیا سارے انبیا پر ، پہلی حیثیت، پہلا جو مقام آپ کا ہے وہ ہے ” زندہ نبی، زندگی بخش نبی کوئی ایسا نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سوا دنیا میں نہیں کہ جس کی روحانی زندگی قیامت تک ممتد ہو۔آئے شریعتیں بھی لائے۔بزرگ نبی تھے اس میں شک نہیں۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کی خدمت کی۔اخلاقی اور روحانی طور پر ان کے درجات کو بلند کرنے کی اللہ کی نگاہ میں کوشش کی۔یہ درست ہے مگر وہ ایک ہی ہے۔جو زندہ ہے اپنے روحانی فیوض کے لحاظ سے اور زندگی بخش ہے۔یعنی اس کے اندر یہ قوت اور طاقت پائی جاتی ہے کہ وہ زندگی دے اور اس کی توفیق بھی ملتی رہی اور ملتی رہے گی خدا تعالیٰ کی بشارتوں کے ساتھ کہ مردوں کو زندہ کیا اس نے اور زندگی کرتا چلا جائے گا قیامت تک۔آپ کی نبوت قیامت تک جاری رہے گی۔آپ کی اس زندگی کا تعلق تمام اقوام عالم سے ہے اور ہر زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام فرماتے ہیں۔( جو شروع میں جو زندگی آپ نے عطا کی۔وحشی قوم عرب کے حالات آپ پڑھیں تو ان سے زیادہ شاید درندہ قوم ہی کوئی دنیا میں پیدا نہ ہوئی ہو۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کامل اور اکمل نبی اور محسن اور زندگی بخش رسول بن کے آ۔تھے۔انہوں نے اپنا کام وہاں سے شروع کر دیا۔وہاں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کے حالات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں )۔وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گز را کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یکدفعہ