خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 499
خطابات ناصر جلد دوم ۴۹۹ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء پیش کی کہ تمہارا یہ مسئلہ تھا۔تم نا کام ہوئے اسلام اس کا یہ حل پیش کرتا ہے۔تم نہیں کہو گے مجھے کہ یہ حل جو ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔اور کسی کو جرات نہیں ہوئی یہ کہنے کی کہ جوحل آپ بتا رہے ہیں قرآن کریم کی طرف سے جو پیش ہوا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ٹھیک نہیں کیونکہ وہ واقعہ میں ٹھیک ہے اور ان کو ماننا پڑتا ہے اسے۔خدا نے اعلان کیا۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المآيدة : ٤) اے نوع انسانی قیامت تک کے لئے میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا تمہارے لئے اور اس لئے وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المآيدة : ۴) قیامت تک جس نعمت کی بھی تمہیں ضرورت پڑے گی تمہیں اس قرآن میں سے وہ مل جائے گی وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ( المايدة : ۴) اس کو نہ چھوڑنا۔اس پر عمل کرتے رہنا میری رضا کو پا لو گے۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا آج کہ چودہ سو سال پہلے یہ کتاب نازل ہوئی تھی ہمارے مسائل کو کیسے حل کرے گی۔چودہ سو سال پہلے جو کتاب خدا کی طرف سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی چودہ سوسال پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ آج کے مسائل کو یہ حل کرے گی۔( نعرے) (ب) تو دوسرا پوائنٹ (Point) یہ تھا افضیلت کا کہ ایک کامل کتاب کامل شریعت دی گئی۔اور اس کو میں نے اکٹھا بیان کر دیا ہے۔تیسرا پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب زندہ رہنے والی کتاب ہے۔قیامت تک کوئی ایسا زمانہ نہیں آئے گا کہ کوئی کہے جی یہ اب مردہ ہو گئی۔اس کو طاق نسیان پر رکھ دو۔جو ایسا کرے گا حماقت کی بات کرے گا اور نقصان اُٹھائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔مگر ہمارا مشاہدہ اور تجربہ اور اُن سب کا جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں اس بات کا گواہ ہے کہ قرآن شریف اپنی روحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے بچے پیروکو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کے دل کو منور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلا کر خدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جو ٹکڑہ ٹکڑہ کرنا چاہتی ہے۔وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشتا ہے اور علوم غیب عطا فرماتا ہے اور دعا قبول کرنے پر اپنے کلام سے اطلاع دیتا ہے اور ہر ایک جو اُس شخص سے مقابلہ کرے جو قرآن شریف کا سچا پیرو ہے خدا