خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 449
خطابات ناصر جلد دوم ۴۴۹ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء - بھی یہ مدارج میں سے گزار کے ارتقائی مدارج میں سے گزار کے اس کا جسم بناوہ ایک جیسے ہے کوئی فرق نہیں جو اس جسم میں اس کے نفس میں طاقتیں تھیں نوع کے لحاظ سے جو مرد میں ہیں قرآن کریم کہہ رہا ہے جو مرد میں ، وہ عورت میں ہیں۔جو طاقتیں ساری کائنات کے مقابل انسان کو رکھ کے خدا تعالیٰ نے انسان میں پیدا کیں سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (الجاثية :۱۴) کہ نوع انسانی کو تمام وہ قو تیں اور صلاحیتیں دے دی گئیں جن کے نتیجہ میں وہ کائنات پر حکمرانی قائم کر سکتا ہے کیونکہ کائنات کی ہر چیز اس کی خادم بنا کے پیدا کی گئی ہے یہ جو قو تیں اور صلاحیتیں ہیں جس طرح مردوں کو دی گئیں قرآن کریم کہتا ہے عورتوں کو بھی دی گئیں، پاکیزگی جو آپ کا مقصد تھاناں، ہر حکم جو ہے وہ پیار کے ساتھ ، وہ محبت کے ساتھ حکمت بتا کے دلیل دے کے، وہ عقل کو قائل کر کے، جذبات کو اپیل کر کے لے جا رہا ہے کہ پاک بن جاؤ، مطہر بن جاؤ خدا کی نگاہ میں دعوئی نہ کر بیٹھنا اپنی طرف سے لیکن خدا کی نگاہ میں پاک بنے کی کوشش کرو ہر چیز تمہاری پھر یہ دنیا جو ہے ی زندگی جو ہے یہ تو ہے ہی وقتی لیکن اس پاکیزگی تک پہنچانے کی ذمے داری جو ہے وہ تو ان لوگوں کی ہے ناں جنہوں نے قرآن کریم کو سمجھ اور محمصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت سے واقف ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا احسان حاصل کیا۔یہ خانہ کعبہ کے تیس مقاصد جن کا میں نے ذکر کیا جن کا پہلا اور آخری حصہ مل گیا آئے۔یعنی ایسی تعلیم جو سارے نوع انسانی کے لئے ہے ہر انسان کے لئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی ایسی تعلیم نہیں لایا اور آپ کی تعلیم چار حصوں میں تقسیم، جن میں سے دو کے متعلق مختصراً میں نے کہا ہے اور تیسری چیز ہے حکمت اس کے بڑے پہلو ہیں۔قرآن کریم کے ہر حکم میں ہمیں ایک دو بنیادی حکمتیں ہیں وہ بیان کرنے لگا ہوں ہر حکم جو ہے اس کے اندر اعتدال کے پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے تا کہ انسان تھک نہ جائے اور دلبر داشتہ نہ ہو جائے ، اعتدال کا پہلو مثلاً کھانے پینے کے متعلق اعتدال کا حکم ، روزہ رکھنے کے متعلق اعتدال کا حکم، ایک تو یہ کہ ہر روزہ مہینے کے سارے دنوں کے چوبیس گھنٹے کا روزہ نہیں بلکہ دن کا روزہ رکھا، تو دن اور رات میں ایک اعتدال پیدا کر لیا جو دن کی جسمانی کوفت تھی یا جسمانی تکلیف تھی یا جو جسمانی طور پر روزمرہ کی عادت میں فرق پڑا تھا عام طور پر لوگ کھانا کم نہیں کرتے میں نے بڑا مطالعہ کیا ہے کچھ زیادہ ہی کھا لیتے ہیں مثلاً جولوگ رمضان سے باہر پراٹھا نہیں کھاتے وہ رمضان