خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 404
خطابات ناصر جلد دوم ۴۰۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء معاف کی۔اُس کے کھانے کا انتظام کیا بعض دفعہ اُس کے کپڑوں کا انتظام کیا۔اُس کے علاج کا انتظام کیا۔لا ہور میں جب ہم آئے کٹ لگا کر۔اُس وقت لاہور کا ایک طالب علم داخل کیا بڑا ہی پیارا خاندان وہ، اُس کا ایک بھائی کمانے والا۔ایک سو دس روپے تنخواہ لے رہا تھا۔نابینا باپ۔نابینا ماں۔وہ اُن کی پرورش کر رہا تھا اُس نے اپنے چھوٹے بھائی کو میٹرک تک پڑھایا۔وہ میرے پاس آ گیا اور کہا سارے لاہور میں گھوما ہوں مجھے کوئی کالج پڑھانے کے لئے تیار نہیں۔اُس نے چھ سو چالیس کے قریب نمبر لئے ہوئے تھے یعنی وظیفہ کے نمبروں سے ذرا کم۔اور میں نمبر لیتا تو اُسے وظیفہ مل جانا تھا۔وہ مجھے کہنے لگا کہ مجھے کسی نے کہا ہے کہ اگر تو نے پڑھنا ہے تو جا تعلیم الاسلام کا لج میں چلا جا۔میں نے کہا بڑا چھا کیا آگئے۔میں نے کہا میں تمہیں داخل کروں گا۔کل صبح آ جانا اور دس روپے لے آنا۔اب میں آپ سے بات کر رہا ہوں مجھے دُکھ ہو رہا ہے میں نے دس روپے اُس سے لے کے اُسے تکلیف پہنچائی۔ممکن ہے کئی دن انہوں نے اپنا نصف پیٹ بھرا ہو۔اتنی غربت تھی اُس گھر میں لیکن میرے ذہن نے فیصلہ کیا کہ اگر میں نے اس سے قربانی نہ لی تو اپنی پڑھائی میں یہ کمزور ہو جائے گا۔اس کو اپنی پڑھائی کے لئے قربانی دینی چاہئے دس روپے اُس سے لئے۔چار سال پڑھایا اس کو ، بی اے کر کے وہ ہمارے پاس سے گیا۔ایک دفعہ وہ بیمار ہو گیا۔ڈاکٹروں کے پاس بھجوایا۔ساتھ پروفیسر بھیجا۔ڈاکٹر بڑا مشہور بڑی فیس لینے والا۔مجھے جانتا تھا وہ ڈاکٹر پیرزادہ صاحب۔اللہ تعالیٰ ان کا بھلا کرے۔وہ خود بھی بڑے اچھے ڈاکٹر تھے، خیال رکھنے والے، میں نے کہا وہ اس کے کپڑے دیکھے گا کہے گا غریب سا لڑکا کہاں آ گیا ہے میرے پاس، ٹالے گا۔یوں ہی کوئی معمولی نسخہ لکھ دے گا۔ٹھیک طرح دیکھے گا نہیں۔میں نے کہا تم کہنا میں نے بھیجا ہے تعلیم الاسلام کالج میں پڑھتا ہے، یہ لڑکا غریب تمہیں نظر آتا ہو گا لیکن جس کالج میں پڑھتا ہے وہ غریب نہیں ( خدا پر جو بھروسہ رکھنے والے ہیں وہ غریب تو نہیں ہوا کرتے ) پس میں نے کہلوا بھیجا اچھی طرح دیکھو۔جو فیس لینی ہے لو۔بہترین نسخہ لکھ دوائی تو ہم نے خرید کر دینی ہے۔اس کی غربت پر نہ جانا۔تین سوساڑھے تین سور و پیہ اُس ایک بیماری پر خرچ ہوا اور دس روپے اُس سے وصول کئے تھے چار سال میں۔