خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 405 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 405

خطابات ناصر جلد دوم ۴۰۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء بیسیوں سینکڑوں وہ بچے ہمارے جو غریب گھروں میں پیدا ہوئے لیکن خدا تعالیٰ نے اُن کو ذہن عطا کیا تھا اُن کا جماعت احمدیہ کے عقیدہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔اُن کو ہم نے پڑھایا۔ہر طرح سے خیال رکھا۔اُن سے باپ کی طرح پیار کیا۔اُن کی تربیت کی۔اُن میں سے ایک اسی قسم کا بچہ ہمارے ہاں سے انٹر میڈیٹ کر کے فوج میں گیا پھر ڈی سی لگ گیا۔پھر وہ کمشنر صاحب لگ گئے۔داخلہ کے وقت اُس کی خالہ لے کے آئی تھی۔کہتی تھی کہ یہ بچے (دو بھائی تھے) پڑھ نہیں سکتے۔مجھے کسی نے بتایا ہے آپ پڑھا دیں گے۔میں نے کہا ٹھیک ہے میں پڑھا دوں گا مستحق تھے ذہین تھے۔پارٹیشن کی وجہ سے لٹ لٹا گئے تھے ماں باپ دونوں مارے گئے تھے غالباً اسی فساد میں یا اُس کے قریب۔جس حد تک کر سکے کیا یہ تو ماضی کی باتیں ہیں نا۔اب حال کی یا ماضی قریب کی بات کرتے ہیں میں نے اعلان کیا کہ جو ایم ایس سی میں بہت اچھا طالب علم ہے اُس کے لئے میں وظیفے مقرر کرتا ہوں۔غیر ممالک میں وہ جا کے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔اُس وقت فیسیں کم تھیں۔ہم نے کہا ساتھ پاؤنڈ ہم دے دیا کریں گے کچھ تم خرچ کرو اچھا وظیفہ ہے ہمارے ملک کے لحاظ سے لیکن بعد میں ملکوں کے حالات بدلے۔ڈاکٹر صاحب بتائیں کہ کتنا خرچ کرنا پڑتا ہے انگلستان میں اگر میں پڑھائی کے لئے بھیجوں ایک ایم ایس سی کو اور وہاں جاکے پی ایچ ڈی کرے تو اس کو سالانہ کتنا خرچ کرنا پڑے گا۔مکرم ڈاکٹر سلام صاحب کھڑے ہوئے عرض کیا اڑھائی تین ہزار پاؤنڈ ) اس کا مطلب ہے قریباً ۷۰-۷۵ ہزار روپیہ سال کا ہو گیا نا۔اُس وقت کم تھا۔میں نے کوشش کی کہ جو بہت ہی ذہین بچہ ہے اس کو ہم ضائع نہیں ہونے دیں گے ہمارا جینیس (Genius) نو جوان ضائع نہیں ہوگا۔دوسرے میں نے کہا کہ کچھ وظیفے ایسے ہوں گے جو اوپن (open) ہوں گے اگر کوئی بچہ احمدی نہیں ہے ہمارے بچے سے وہ آگے نکلتا ہے تو آئے ہم بڑی خوشی سے اُسے پڑھائیں گے۔اب میں نے پچھلے دنوں سوچا کہ اگر کوئی غریب ہے تو وہ بی اے بھی پاس نہیں کر سکتا۔اس کو میں نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔استغفار کی اور آج میں یہ اعلان کر رہا ہوں کہ جماعت احمد یہ ذہین بچے کو پرائمری کے امتحان سے سنبھالے گی۔پانچویں جماعت کا جب امتحان دے گا ( بورڈ کا)