خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 403 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 403

خطابات ناصر جلد دوم ۴۰۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء جب میں نے قرآن کریم حفظ کیا اور مولوی فاضل پاس کیا تو میں نے انگریزی تعلیم شروع کر دی پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی پھر آکسفورڈ چلا گیا۔جب واپس آیا تو حضرت صاحب کو خیال تھا شاید کہ میں عربی بھول گیا ہوں گا دینی تعلیم بھول گیا ہوں گا مجھے جامعہ احمدیہ میں استاد لگا دیا۔پھر میں نے از سر نو تیاری کی۔پڑھا اور پڑھایا اور ۱۹۳۸ء کے آخر سے لے کر ۱۹۴۴ء تک جامعہ احمدیہ میں ایک اُستاد کی حیثیت سے پھر پرنسپل کی حیثیت سے میں نے کام کیا۔پھر ۱۹۴۴ء میں جب کالج بنا تو مجھے جامعہ احمدیہ سے نکال کے (میں واقف زندگی ہوں۔میں یہ واقعہ بتا رہا ہوں ہر قدم پر ہر حکم میں نے بشاشت سے قبول کیا۔میں نے اپنی زندگی وقف کی تھی۔خدمت کے لئے اپنے آرام کے لئے نہیں کی تھی مجھے کہا گیا کہ تم کالج کے پرنسپل لگ جاؤ۔خیر میں بن گیا پرنسپل۔ایک ہدایت جو مجھے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے دی، وہ یہ تھی کہ کالج ہم نے اس پسماندہ ملک کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے جاری کیا ہے، تبلیغ کے لئے جاری نہیں کیا۔اُس کے لئے ہمارے دوسرے محکمے ہیں۔اس واسطے اس کالج میں ہر عقیدہ کا لڑکا جو غریب اور ذہین ہے اُس کو اگر تمہاری طاقت ہے اور جس حد تمہاری طاقت ہے تم نے پڑھانا ہے۔یہ چیز میرے دماغ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اچھی طرح داخل کر دی تھی۔اللہ جانتا ہے وَلَا فَخُر ہماری جماعت کا مزاج ہے بے لوث خدمت کرنا اور ہر احمدی کا بھی یہی مزاج ہے۔یونیورسٹی کا قاعدہ یہ ہے کہ ایک پرنسپل کل تعداد طلباء کی جو ہے اس کی دس فیصدی کو نصف فیس معاف کر سکتا ہے اور بس۔یعنی اگر چار سولڑ کا ہو۔تو صرف چالیس لڑکوں کی آدھی فیس معاف کر سکتا ہے اس سے زیادہ کی نہیں کر سکتا۔مجھے جو حکم تھا وہ یہ تھا کہ ذہین بچے کو پڑھا سکتے ہو پڑھاؤ۔سچی بات یہ ہے کہ کسی سے نہیں پوچھا میں نے کہ یو نیورسٹی کا قاعدہ میں توڑنے لگا ہوں تو ڑ دوں یا نہ توڑوں میں نے یہ سوچا جب میرا امام حضرت مصلح موعود یہ کہ رہا ہے کہ جس حد تک پڑھا سکتے ہو پڑھاؤ تو میں پڑھاتا جاتا ہوں۔میں نے سو میں سے پچاس لڑکوں کی فیس معاف کر دی۔چارسو میں سے چالیس کی نہیں۔سو میں سے پچاس کی یعنی دس فیصدی کی بجائے پچاس فیصد کی معاف کر دی جن میں سے آگے پچاس فیصد وہ طلبہ تھے جن کا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔مجھے کہا گیا تھا کہ یہ تعلیم کا ادارہ ہے تبلیغ کا ادارہ نہیں ہے جو غریب لڑکا، ذہین بچہ آیا میرے پاس۔اُس کو میں نے داخل کیا۔نہ صرف اس کی فیس