خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 390 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 390

خطابات ناصر جلد دوم ۳۹۰ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۹ء اور پیار اور جوش مارے اور تم دعاؤں میں لگ جاؤ۔جتنی شدت لسانی ایڈا کی ہو اس سے زیادہ شدت تمہاری دعاؤں میں پیدا ہو اور خدا کے فضل سے جماعت نے سب کے لئے دعائیں کیں۔ہمارے بھائی ہیں۔جس کو خدا تعالیٰ نے اپنا بندہ بننے کے لئے پیدا کیا انسان۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الدريت: ۵۷) میں یا آپ اس سے نفرت کریں گے؟ خدا کہتا ہے کہ میں نے اس کو اپنا بندہ بننے کے لئے پیدا کیا ہے اور آپ اس سے دشمنی کریں گے۔وہ اس کا بندہ ابھی بنایا نہیں بنا لیکن اس کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ وہ خدا کا بندہ بنے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى ( المايدة :٣) کے ماتحت اس کی پوری مدد کریں اور کچھ نہ ہو تو دعاؤں کے ساتھ۔ایسے بھی ہیں جو پیار سے بات سننے کے لئے بھی نہیں تیار۔ٹھیک ہے تب بھی ہمیں غصہ نہیں آتا۔لیکن دعاؤں کے ساتھ ان کی مددکو شروع کریں اور دعائیں کرتے رہیں۔کرتے رہیں۔کرتے رہیں۔حسن سلوک کرتے رہیں۔کرتے رہیں۔کرتے رہیں۔اور یا درکھیں آپ اور دنیا بھی یادر کھلے کہ ہم نے اپنے خدا سے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس کے لئے اس کے بندوں کے دل جیتیں گے اور ہم پیار کے ساتھ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے ایک دن انشاء اللہ تعالی ، اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ۔اب دعا کر لیتے ہیں ہاتھ اٹھا کر اور پھر جلسہ کی دوسری کا رروائی شروع ہوگی اور میں تو یہاں سے آپ سے اجازت لے کر چلا جاؤں گا۔اگر میری طبیعت ٹھیک نہ ہوئی تو شاید میں ظہر اور عصر کی نماز جو یہاں پڑھایا کرتا ہوں وہ نہ پڑھا سکوں۔آپ دعا کریں کہ جلدی میری طبیعت ٹھیک ہو جائے اور میری خواہش پوری ہو اور زیادہ سے زیادہ میں آپ میں بیٹھنے کے قابل ہو جاؤں۔آؤ دعا کرلیں۔از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )