خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 389
افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۹ء خطابات ناصر جلد دوم ۳۸۹ فضلوں پھر حب الوطن من الايمان(موضوعات كبير حرف الحاء صفحہ ۳۵) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس ملک میں تم رہتے ہو۔جہاں تم پیدا ہوئے ، جہاں کے تم شہری ہو، جہاں کی مٹی سے اگنے والا اناج تم نے کھایا ہے، جہاں کے پانی سے تم سیراب ہوئے ہو، جہاں میری پیدا کرنے والی نعمتوں سے تم نے حصہ لیا ہے اس کی محبت تمہارے دل میں پیدا ہونی چاہئے۔ہر شخص کی محبت کا اظہار مختلف ہے۔اپنی سمجھ اپنی عقل کے مطابق ، خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ، ہماری سمجھے اور عقل کے مطابق ہماری محبت اپنے ملک کے لئے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے دل میں بڑی محبت ہے اپنے ملک کی۔ہمارے ملک کے لئے یہ ہے کہ اے خدا! اس ملک میں استحکام پیدا کر۔اس ملک کو مضبوط بنا۔اس ملک میں بسنے والوں کے لئے اپنی رحمتوں کے سامان پیدا کر۔اپنے فنی سے انہیں نواز۔ان کے اعمال کو ایسا بنا جو تیرے حضور مقبول ہوسکیں اور تیری رضا کو اور تیرے پیار کو حاصل کر سکیں۔ہم تو خدمت کے لئے ، ہم تو پیار کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ہم تو احسان کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ہم تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کی جھلکیاں دکھانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ہم کسی پر غصہ کرنے کے لئے پیدا نہیں ہوئے۔۱۹۷۴ء میں عارضی طور پر ایک فساد پیدا ہوا۔بعض دوستوں کو (سب کو نہیں ) تکلیف بھی ہوئی۔میرے پاس آتے تھے۔میرا فرض تھا ان کو تسلی دلاؤں۔میں ان کو اس وقت بھی کہتا تھا بڑے زور سے کہتا تھا ہمیشہ کہتا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں۔میں انہیں یہ کہتا تھا کہ جس نے تمہیں دکھ پہنچایا۔میر حکم صرف یہ نہیں کہ اس ظلم کا بدلہ نہ لو ظلم سے۔میرا حکم یہ ہے کہ تمہارے دل میں بھی ان کے خلاف غصہ نہ رہے بلکہ محبت کا جذبہ ہو اور دعائیں کرنے کا طریق ہو ان کے لئے ، اور خدا کے فضل سے یہ بڑی پیاری جماعت ہے۔اتنا عظیم اور اتنا حسین نمونہ ساری جماعت نے اس سختی کے زمانہ میں دکھایا۔میرے علم میں نہیں الا ماشاء اللہ چند ایک کے کہ زیادہ لوگ پھیلے ہوں۔یہ کیفیت دماغ کی ، پاکے دکھ آرام دو۔ہمارے آقا نے اسلامی تعلیم کی روشنی میں ہمیں یہ حکم دیا تھا اس زمانہ میں۔اس میں کہا گیا تھا تمہیں دکھ دیا جائے گا لیکن میں کہتا ہوں مہدی علیہ السلام نے ہمیں کہا۔میں کہتا ہوں پاکے دکھ آرام دو۔دکھ تو تمہیں دیا جائے گا لیکن دکھ کا بدلہ نہیں لینا بلکہ آرام دینا ہے۔گالیاں سن کے دعا دو۔زبان سے جو اذیت پہنچائی جائے۔زبان سے اذیت نہیں پہنچانی۔خاموش نہیں رہنا اور دل میں غصہ نہیں رکھنا۔بلکہ تمہارے دل میں ہمدردی