خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 391
خطابات ناصر جلد دوم ۳۹۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء ہوا میں تیرے فضلوں کا منادی دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔میری تکلیف میں پہلے کی نسبت تو افاقہ ہے لیکن ابھی پوری طرح آرام نہیں آیا۔بعض علامتیں کچھ نمایاں ہو گئی ہیں انفلوئنزا کی بعض علامتیں ظاہر ہوئی ہیں۔گلے پر اثر ہے۔اس طرح معلوم ہوتا ہے جس طرح گلا کسی نے چاقو سے چھیل دیا ہوا گلے میں خراش ہے اور جو Palpitation ( دل کی دھڑکن ) کی تکلیف زیادہ تھی اسے فرق ہے مگر پوری طرح آرام نہیں آیا۔کچھ بے چینی ہے۔ذمہ داری جلسہ کی جلسہ کے ایام میں ہی پوری کی جاسکتی ہے۔میں کوشش کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ توفیق دے تو پوری دیانت داری کے ساتھ اور اس کی اہمیت کے مطابق اپنی ذمہ داری کو نبھاؤں۔آپ دوست بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے پوری صحت دے اور اپنے فضل سے جو میرے دل میں یہ خواہش ہے کہ ایسی باتیں میرے منہ سے نکلیں جو دُنیائے اسلام کے لئے مفید ہوں اور آپ کے دلوں پر اثر کرنے والی ہوں اور آپ کو عمل پر ابھارنے والی ہوں وہ خواہش خدا تعالیٰ پوری کرے۔ستائیں تاریخ کی جو تقریر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نائب خلیفۃ المسیح کرتا ہے، اُس کا عنوان ہمیشہ ہی یہ ہوتا ہے۔”ہوا میں تیرے فضلوں کا منادی“ اللہ تعالی سال بھر جو جماعت احمدیہ پر بے شمار فضل اور رحمتیں کرتا ہے اُس کا ہم مختصراً ذکر کرتے ہیں۔پورا تو نہیں کر سکتے کیونکہ کوئی ساعت بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے خالی نہیں اور خدا تعالیٰ کی صفات کے جو جلوے پیار کے رنگ میں اور اسلام کو مضبوط کرنے کے رنگ میں اور دُنیا میں ایک انقلاب عظیم اسلام کے حق میں پیدا کرنے کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں وہ تو