خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 305 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 305

خطابات ناصر جلد دوم ۳۰۵ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء یہاں آنے کی خواہش تو رکھتے تھے لیکن جائز عذروں کی وجہ سے وہ یہاں پہنچ نہیں سکے۔اور ان کے دل دردمند ہوئے خدا تعالیٰ اس درد کا مداوی کرے اور جہاں درد ہے ان کے دل میں وہاں خدا کی رحمت کا سایہ ان کو وہاں لگے اور اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں جن عظیم بشارتوں کا وعدہ اسلام سے کیا ہے وہ ہماری زندگیوں میں پورا ہو۔اس کا کم از کم کچھ حصہ تا کہ ہماری روح بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھ کر خوشی محسوس کرے اور ہم جب یہاں سے جائیں تو ہمارے دل مطمئن ہوں کہ جس طرح روٹی کا ایک گالالے کے بڑھیا وہاں پہنچ گئی تھی ہم نے بھی کوئی حقیر سی کوشش اس عظیم مجاہدہ میں، اس عظیم سعی میں، اس عظیم تدبیر میں کی ہے اللہ تعالیٰ ہماری حقیر کوششوں کو قبول کرے اور احسن جزاء دے ہم میں سے ہر ایک کو اور اللہ تعالیٰ ہمارے دل میں اپنی محبت ذاتیہ پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو اور پھر کبھی ناراض نہ ہو اور ہم سے خوش ہو اور ہمیشہ ہی خوش رہے اور خدا کرے کہ ہمارے وہ بھائی جو ساری دنیا میں اسلام کو پھیلا رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت اور اس کے فضل اور اس کی رحمت ان کے مقدر میں ہوں اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں سے انہیں نوازے اور ان کی زبان اور ان کی قلم میں برکت ڈالے اور اسلام کے نور کو پھیلانے والے ہوں اور انسانیت کے دل کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے والے بنیں۔اور خدا کرے کہ ہمارے انسان بھائی دنیا کے جس خطہ میں بھی بس رہے ہیں اور جس حد تک وہ مظلوم ہیں جس حد تک ان کی قوتوں اور طاقتوں اور صلاحیتوں کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور جس حد تک ان کے حقوق ان سے چھینے جا رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحیح استعمال کی توفیق عطا کرے اپنی صلاحیتوں کی اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کے حقوق دلائے اور ان کے جسم بھی راحت اور خوشی محسوس کریں اور ان کی ارواح بھی خدا تعالیٰ کے پیار میں مسرور رہیں اور خدا تعالیٰ کے اس پیار کی لذت وہ بھی محسوس کریں جس طرح خدا کے لاکھوں بندے پاکستان میں خدا کے پیار کو محسوس کر رہے ہیں اور اس کی پیاری بشارتوں کو پارہے ہیں بچے بھی ، بڑے بھی عورتیں بھی ، مرد بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی ہی رحمتیں ہیں جماعت کے اوپر خدا نہ کرے کہ وہ ہم سے ناراض ہو جائے اور ہمیں محروم کر دے ان بشارتوں سے اور وہ ہمارا مالک یوم الدین، دوسری زندگی میں ، اخروی زندگی میں بھی پیار کی نگاہ سے ہمیں دیکھے اور پیار کے ہاتھ اپنے آگے کر کے ہمیں قبول کرے اور اپنی رضا کی جنتوں کی